مضامین ناصر — Page 53
۵۳ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا جب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچ ہزار آدمی تھوڑے ہیں پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ الله - (تذکرہ صفحہ ۱۸۱) پس یہاں بھی فئتان کا لفظ استعمال کر کے مصلح موعود کے زمانہ کو جس کے زمانہ میں یہ پانچ ہزاری فوج قائم ہوگی بدر کے زمانے سے صراحتا اور وضاحنا مشابہت دی گئی ہے۔بارش برسنا (۵) ایک اور ظاہری مشابہت یہ ہے کہ جنگ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ سے مسلمانوں کی معجزانہ مددفرمائی تھی۔مصلح موعود کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ الخَ کی پیشگوئی فرمائی۔اور جو ظاہری صورت میں ایک معجزانہ طریق پر لدھیانہ میں بھی پوری کی گئی۔یہ چند مشابہتیں ہیں جو مصلح موعود کے زمانہ اور بدر کے زمانہ میں پائی جاتی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے بدر کے زمانہ میں اسلام کو اتنی قوت عطا ہوگئی تھی کہ آئندہ کبھی کفر نے سر نہیں اٹھایا۔بلکہ اس کا سر ہمیشہ کے لئے کچل کر رکھ دیا گیا۔بے شک بعد میں جنگیں ہوئیں۔بے شک بعد میں بھی مسلمانوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن اسلام کی بنیادیں ہمیشہ کے لئے مضبوط کر دی گئیں۔اسی طرح احمدیت کے غلبہ کی تکمیل کے لئے شاید ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہے مگر جو عمارت اس لمبے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والی ہے اس کی بنیاد میں مصلح موعود کے زمانے میں مضبوط کر دی گئیں ہیں اگر بدر کے میدان میں کفر کی موت اور اسلام کے غلبہ کی بنیادیں نہ رکھ دی جاتیں تو وہ نتائج کبھی نہ نکلتے جو بعد میں اسلامی فتوحات کی صورت میں رونما ہوئے۔اس طرح کے دور ثانی میں بھی مصلح موعود کا زمانہ حقیقتا وہی زمانہ ہے جو دو راول میں بدر کا زمانہ تھا۔پس ہمیں چاہیے کہ اس زمانہ کی اہمیت کو کبھی نہ بھولیں اور جس طرحخدا وہاں فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکو جو بدر کے مقام پر تم پر کئے گئے۔اسی طرح ہمیں چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا تقویٰ