مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 239

مضامین ناصر — Page 52

۵۲ مصلح موعود کو ایک ہزار کا لشکر دے کر اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے کچل دیا۔(۲) پھر جب دوسرے موقع پر احرار کا فتنہ اٹھا تو اس شورش کے زمانے میں خاص طور پر جن لوگوں نے احرار کا مقابلہ کیا ان کی تعداد تین ہزار تھی اور اس طرح خدا نے ثابت کر دیا کہ اگر تم اسلام کے پہلے دور میں تین ہزار ملائکہ کے نازل ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہم مصلح موعود کے زمانے میں جو اسلام کے دور ثانی میں بدر کا زمانہ ہے تین ہزار والنٹیر کے ذریعے ظاہری رنگ میں بھی اس نشان کو پورا کر دیتے ہیں۔(۳) پھر خدا تعالیٰ نے پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے مقابلہ میں مصلح موعود کو تحر یک جدید کی پانچ ہزاری فوج عطا فرمائی جو خاص نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے جو زمانہ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ کے لئے قائم رہے گا۔انشاء اللہ تعالی۔یہ ایک معجزہ ہے جو مصلح موعود کے زمانہ کی بدر کے زمانے سے مشابہت قائم کر دیتا ہے۔حق و باطل کے دو گروہ پھر جنگ بدر میں کفر اور اسلام کے جن دو گروہوں کے درمیان مقابلہ ہوا قرآن مجید میں اس کو فتان کے نام سے پکارا ہے۔میں نے جب قرآن مجید پر غور کیا تو جس جس جگہ بھی مسلمانوں کا ایک فئة “ اور اس کے مقابلے میں کفار کو دوسرا فئة “ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔وہ تمام مقامات جنگ بدر ہی کے متعلق ہیں۔قرآن مجید نے مسلمانوں اور کفار کی کسی اور جنگ کو ہستان کے نام سے نہیں پکارا۔دوسری طرف جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف کو دیکھتے ہیں جس میں ایک لاکھ کی فوج مانگنے پر پانچ ہزاری فوج کا وعدہ دیا گیا تو وہ کشف یہ ہے۔د کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کر کے کہا مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔تب میں نے اُس دوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اُسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے وہ میری اس بات کوسن کر بولا۔ایک لاکھ