مضامین ناصر — Page 224
۲۲۴ (۴) خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلالوں گا پر تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے۔لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔۔۔وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دل میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اے منکر و اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو، اگر تمہیں اس فضل واحسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ پر کیا تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم پیش نہ کر سکو ( اور ہرگز پیش نہ کر سکو گے ) تو اس آگ سے ڈرو کہ 66 جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔(اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۹۷ طبع بار دوم ) احیاء و غلبہ اسلام کے ضمن میں ہماری ذمہ داری یہ چند اقتباسات مختصر میں نے آپ دوستوں کے سامنے اس لئے رکھے ہیں کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے ساتھ آپ کے رب نے کس قدر محبت کے وعدے کئے ہیں اور آپ کی عظمت کو (بوجہ اس کے کہ آپ خدا کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ) دنیا میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ آپ ہی وہ گروہ ہوں گے جن کی وجہ سے اور جن کی کوششوں اور جن کی قربانیوں