مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 239

مضامین ناصر — Page 215

۲۱۵ (المائدة: ۲۲ تا ۲۷) دَخَلْتُمُوْهُ فَإِنَّكُمْ غَلِبُونَ وَعَلَى اللهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ - قَالُوا يمُوسَى إِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُوْنَ۔قَالَ رَبِّ إِنِي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ - قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً : يَتِيْهُونَ فِي الْأَرْضِ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفُسِقِينَ۔اے میری قوم ( یعنی قوم موسیٰ ) تم اس پاک کی ہوئی زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے اور اپنی پیٹھوں کے رُخ نہ لوٹ جانا ورنہ تم نقصان اٹھا کر لوٹو گے۔انہوں نے (جواب میں ) کہا کہ اے موسیٰ! اس (ملک ) میں یقیناً ایک سرکش قوم رہتی ہے اور جب تک وہ لوگ اس میں سے نکل نہ جائیں ہم اس میں ہرگز ہرگز داخل نہ ہوں گے۔ہاں اگر وہ اس میں نکل جائیں تو ہم یقیناً داخل ہو جائیں گے۔(تب) جو لوگ اللہ سے ڈرتے تھے ان میں سے دو شخصوں نے جن پر اللہ نے احسان کیا تھا انہیں کہا کہ تم ان پر حملہ آور ہو کر ان کے خلاف ( چڑھائی کرتے ہوئے ) اس دروازہ میں داخل ہو جاؤ۔جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم یقیناً غالب آجاؤ گے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ ہی پر تو گل کرو۔پھر ہم کہتے ہیں کہ اسی پر ) تو کل کرو۔انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ جب تک وہ لوگ اس میں ہیں ہم اس زمین میں کبھی بھی داخل نہ ہوں گے اس لئے تو اور تیرارب ( دونوں ) جاؤ اور (ان سے) جنگ کرو ہم تو بہر حال اسی جگہ بیٹھے رہیں گے۔(موسٹی نے ) کہا کہ اے میرے رب ! میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر ہر گز تصرف نہیں رکھتا اس لئے تو ہمارے درمیان اور باغی لوگوں کے درمیان امتیاز کردے۔(اللہ نے فرمایا تو انہیں اس ملک سے چالیس سال تک کے لئے یقینی طور پر محروم کر دیا جاتا ہے۔وہ زمین میں سرگرداں ہو کر پھرتے رہیں گے۔پس تو باغی لوگوں پر افسوس نہ کر۔فی الوقت میں ان آیات کی تشریح کرنا نہیں چاہتا صرف دو ایک باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بشارت پا کر اپنی قوم سے کہا کہ اس ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ۔بات یہ ہے کہ جب یہ حکم دیا گیا اس وقت وہ ارض مقدس نہیں تھی۔اس میں داخل