مضامین ناصر — Page 214
۲۱۴ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کا عمل وکردار انتہائی بلندی اور انتہائی پستی کی دو واضح مثالیں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے انصار اللہ کے نویں سالانہ اجتماع منعقدہ یکم تا ۳ نومبر ۱۹۶۳ء کے موقع پر اجتماع کے آخری روز انصار کو اختتامی خطاب سے نوازا تھا۔افادہ عام کی غرض سے آپ کا یہ نہایت ہی اہم خطاب ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے۔(ادارہ) جب انبیاء علیہم السلام کے حالات و واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ماننے والوں نے دورا ہیں اختیار کیں انہیں ہم دو متضادانتہاؤں سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ان میں سے ایک تو تسلیم و رضا اور قربانی وایثار کی نہایت ارفع و اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔دوسری طرف تفریط کی راہ انکار وابی اور پہلو تہی کی بدنما مثال کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور دیگر الہامات میں ان دونوں متضاد انتہاؤں کی واضح اور نمایاں مثالوں کا ذکر کر کے ہمیں ان سے آگاہ فرمایا ہے۔نیز نبی اکرم علیہ نے بھی اپنی احادیث مبارکہ میں ان مثالوں پر کافی روشنی ڈالی ہے۔نافرمانی کی بدترین مثال قرآن مجید نے تفریط کی ایک انتہائی بد نما مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمان قوم کو پیش کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ - قَالُوْا يَمُوسَى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا ۚ فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دْخِلُونَ - قَالَ رَجُلنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَإِذَا