مضامین ناصر — Page 212
۲۱۲ امکان ہے کہ اس کی ذہنی و فکری الجھنیں دور نہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت میں ایک دوسرے گروہ کی ذہنی الجھنوں کو دور کرنے میں مصروف ہوں اور تمہیں اس سے پورا فائدہ نہ ہو۔لیکن اگر تم یہاں آکر لمبا عرصہ رہو گے تو تمہیں ایسے مواقع ضرور میسر آجائیں گے کہ جب میں تمہاری اپنی فکری نہج کے مطابق بات کر رہا ہوں گا۔اس طرح تمہاری اپنی ذہنی الجھنیں دور ہو جائیں گی اور تم اطمینان قلب کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ گے۔تو ملفوظات جو حضور کے ایسے ہی پر معارف ارشادات پر مشتمل ہیں ان کا اپنا ایک مزہ اور ان کی اپنی ایک جدا گانہ شان ہے اور وہ بڑا ہی عجیب مزہ اور بہت ہی نرالی شان ہے۔میں اس مزہ اور اُس شان کی کیفیت کیا بیان کروں اور کیونکر بیان کروں جبکہ الفاظ میں اسے بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ہاں مطالعہ کر کے محسوس کیا جاسکتا ہے۔اپنی تو یہ حالت ہے کہ ملفوظات کی جلدیں ہمیشہ سرہانے رکھی رہتی ہیں اور جو نہی ضروری اور فوری کاموں سے ذرا بھی فرصت ہوتی ہے تو انہیں پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔کتاب کھولنے کی دیر ہوتی ہے کہ ایک جہان آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔کہیں دعا کے متعلق گفتگو ہورہی ہے، کہیں عیسائیت کے رد میں دلائل بیان ہورہے ہیں۔کہیں استغفار کی اہمیت ذہن نشین کرائی جارہی ہے، کہیں جماعت کو ایک رنگ میں نصیحت کی جا رہی ہے، کہیں دوسرے رنگ میں نصائح ہورہی ہیں۔جس طرح ایک گلہ بان اپنی بھیڑوں کے گلہ پر ہر سمت اور ہر طرف نگاہ رکھتا ہے کہ کوئی ادھر نہ بھٹک جائے اور کوئی اُدھر نہ بھٹک جائے اسی طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے ہر قسم کی نیکیوں پر نگاہ رکھی ہوئی ہے اور گھیر گھیر کے حضور نے انہیں ایک چھوٹی سی جگہ میں ہمارے لئے محفوظ کر دیا ہے اور جب ملفوظات کی شکل میں یہ سب نیکیاں یکجائی طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں تو ہم ان سے بڑا ہی لطف اٹھاتے ہیں۔یہ وہ بیش بہا خزانہ ہے جس سے ہماری نسلیں قیامت تک روحانی حظ اٹھاتی رہیں گی۔انشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔ملفوظات کی اشاعت ایک بڑا ضروری کام تھا۔پہلے ایک جلد شائع ہوئی۔پھر بہت سے دوستوں نے مزید جلدیں شائع کرنے کی طرف توجہ دلائی۔میری اپنی بڑی خواہش تھی کہ جلد تر تمام ملفوظات کی اشاعت کا انتظام ہو۔میں سوچتا تھا کہ حضور کے ملفوظات کا ایک چھوٹا سا حصہ شائع ہوا