مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 239

مضامین ناصر — Page 211

۲۱۱ اس سے بہت لطف اٹھاتے ہیں۔اگر یہ ہمارے گھروں میں موجود ہو اور ہمارے توجہ دلانے پر بچے اسے بار بار اور بکثرت پڑھتے رہیں تو یہ امران کی تعلیم و تربیت میں بے حد مد ثابت ہوسکتا ہے۔اس لئے کہ ہر وہ مضمون جو حضور نے اپنی کتب میں شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے اسے اختصار کے ساتھ اور اشارہ حضور نے ان نظموں میں ادا فرما دیا ہے۔مزید برآں وہ اشتہارات ہیں جو حضوڑ نے اپنی زندگی میں حسب ضرورت وقتا فوقتاً شائع فرمائے۔یہ امر دیگر ہے کہ وہ اشتہارات فی الوقت دستیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔لیکن اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ان کی اپنی ایک شان اور ان کا اپنا ایک مزہ ہے۔مثلاً آتھم کی پیشگوئی صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ان تمام اشتہارات کو پڑھنا نہایت ضروری ہے جو اس تعلق میں حضور نے اس وقت لکھے اور شائع فرمائے۔ان کے علاوہ حضور کے وہ ارشادات وفرمودات ہیں جو ملفوظات کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں اور ان کا اپنا ایک مزہ اور اپنا ایک لطف ہے۔ان کا مطالعہ کرتے وقت بالکل یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور بہت دلنشین انداز میں مختلف موضوعات اور مختلف مسائل پر گفتگو فرمارہے ہیں۔حاضرین میں سے کوئی ایک بات پوچھتا ہے حضوڑ جواب دیتے ہیں۔کسی کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہوتا ہے۔حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ہو جاتا اور حضور رفع شک کی خاطر اس کے متعلق تقریر شروع فرما دیتے ہیں۔الغرض ملفوظات کا مطالعہ کرتے وقت ایک قاری پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویاوہ ایک اور ہی عالم میں پہنچا ہوا ہے۔یہ ملفوظات ان پر معارف مجالس کی تحریری روداد ہیں جن میں حضور سامعین کی فکری نہج اور ان کی ذہنی اور فکری الجھنوں کوملحوظ رکھ کر مختلف مسائل پر گفتگو فرمایا کرتے تھے۔ایک جگہ حضور نے فرمایا ہے کہ میرے پاس آکر لمبا عرصہ رہا کرو کیونکہ میں ایک ہی وقت میں ہر ایک کی فکری نہج اور ضرورت کے مطابق بات نہیں کر سکتا اور نہ یہ عملاً کسی انسان کے لئے ممکن ہے۔میں ایک وقت میں کسی کی چینی کیفیت کے مطابق بات کر رہا ہوتا ہوں اور دوسرے وقت میں کسی اور شخص کی ذہنی کیفیت کو ملحوظ رکھ کر بات کر رہا ہوتا ہوں اگر کوئی شخص صرف چند گھنٹے ہی میری صحبت میں رہے اور پھر چلا جائے تو اس امر کا