مضامین ناصر — Page 181
۱۸۱ ”خدا غنی بے نیاز ہے۔اس سے ڈرو اور اس کا فضل پانے کے لئے اپنے صدق کو دکھلاؤ۔خدا تمہارے ساتھ ہو“۔(اشتہار ۴ را کتوبر۱۸۸۹ء) دوستو ! اٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ کہ اس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آگیا ہے۔اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔مومن خوف کے وقت خدا کی طرف جھکتا ہے۔کہ بغیر اس کے کوئی امن نہیں۔اب دکھ اٹھا کر اور سوز و گداز اختیار کر کے اپنا کفارہ آپ دو۔اور راستی میں محو ہو کر اپنی قربانی آپ ادا کرو۔اور تقویٰ کی راہ میں پورے زور سے کام لے کر اپنا بوجھ آپ اٹھاؤ کہ ہمارا خدا بڑا رحیم و کریم ہے کہ رونے والوں پر اس کا غصہ تھم جاتا ہے۔مگر وہی جو قبل از وقت روتے ہیں۔نہ مُردوں کی لاشوں کو دیکھ کر۔” تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۳ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۶۲۸، ۶۲۹ بار دوم ) اور ایسے تقویٰ کی راہ پر قدم مارو کہ وہ رحیم و کریم خوش ہو جائے۔اپنی خلوت گاہوں کو ذکر الہی کی جگہ بناؤ۔اپنے دلوں پر سے ناپاکیوں کے زنگ دور کرو۔بے جا کینوں اور بخلوں اور بدزبانیوں سے پر ہیز کرو اور قبل اس کے کہ وہ وقت آوے کہ انسانوں کو دیوانا سا بنا دے بیقراری کی دعاؤں سے خود دیوانے بن جاؤ۔عجب بد بخت وہ لوگ ہیں کہ جو مذہب صرف اس بات کا نام رکھتے ہیں کہ محض زبان کی چالا کیوں پر سارا دارو مدار ہو اور دل سیاہ اور ناپاک اور دنیا کا کیڑا ہو۔پس اگر تم اپنی خیر چاہتے ہو تو ایسے مت بنو۔۔۔تقویٰ سے پورا حصہ لو اور خدا ترسی کا کامل وزن اختیار کرو اور دعاؤں میں لگے رہو تا تم پر رحم ہو۔۔۔دنیا کے لئے بڑی گھبراہٹ کے دن ہیں۔مگر دنیا نہیں سمجھتی لیکن کسی دن سمجھے گی۔( تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۴ ۷۵ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۶۳۰،۶۲۹) (ماہنامہ خالد ر بوه نومبر دسمبر ۱۹۶۳ء صفحه ۲۱ تا ۲۷) ☆☆