مضامین ناصر — Page 170
۱۷۰ سو إِنَّا لِلہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی رو سے ہم اپنے رب سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کریں گے کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں۔ہمارا حال ہمارا مستقبل ہمارا ماحول یعنی یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز خدا ہی کی پیدا کردہ ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔جب وہ ہمیں کچھ دے گا تو ہم اس کی حمد کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور اگر وہ اس چیز کو واپس لے لے گا تو بھی ہم اس کی رضا پر راضی رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اس عارضی آزمائش کے بعد ہم پر اس دنیا میں ہی ضرور اپنا فضل نازل کرے گا اور پھر وَ اِنَّا اِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کے وقت اس جہان میں بھی ہم پر اپنی رحمت اور فضل کا سایہ رکھے گا۔برخلاف اس کے منافقوں کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب مومنوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں اور انہیں مشکل اور مصیبت میں دیکھ کر ذمہ داریوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اُن کی خاطر دکھ اٹھائیں اور اُن ذمہ داریوں کو ادا کریں جو خواہ مخواہ ہم پر ٹھونس دی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے رد عمل کا ذکر سورۃ توبہ کی آیت ۵۰ میں کیا ہے۔فرماتا ہے۔إن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ اَخَذْنَا أَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُوْنَ (التوبة: ۵۰) (اے رسول) اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو ان منافقوں کو بُرا لگتا ہے اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی سے پیش آنے والے حالات کا انتظام کر لیا تھا اور وہ خوشی کے مارے ( اپنی ذمہ داریوں سے ) پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔آیت کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ یہاں خوشی کے مارے پیٹھ پھیر کر چلے جانے سے مراد ذمہ داریوں سے منہ پھیر کر چلا جانا ہے کیونکہ منافق بیچ میں گھس کر ہی نقصان پہنچاتے ہیں الگ ہو کر نہیں۔اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جب بھی مومنوں پر کوئی مصیبت آتی ہے کوئی مالی نقصان ہو جائے یا کوئی بزرگ فوت ہو جائے تو جہاں مومن اِنَّا لِلہ کہہ کر خدا کی طرف رجوع کرتے اور اس سے دعائیں مانگتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو جاتے ہیں وہاں منافق اس مصیبت یا مشکل کے نازل ہونے پر خوش ہوتے ہیں اور ذمہ داریوں سے منہ پھیر کر ایک