مضامین ناصر — Page 161
۱۶۱ درود شریف کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ کے بے انتہا انوار و افضال کے وارث بھی بن جاؤ۔نیز اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے الہا نا فرمایا صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وُلدِ آدَمَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کہ تم محمد ﷺ سید ولد آدم اور خاتم النبین پر اور آپ کی آل پر دور د بھیجتے رہو۔اس سے مخاطب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی نہیں۔بلکہ حضور کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہونے والا شخص مخاطب ہے۔اس لئے ہم سب کا فرض ہے کہ حضور ﷺ پر صلى الله کثرت سے درود بھیجتے اور دعائیں کرتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کثرت سے حضور پر درود بھیجتے تھے کہ حضور علیہ السلام پر بعض اوقات محویت واستغراق کا عالم طاری ہو جاتا ایک ایسی ہی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت علی کے پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا۔کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی را ہیں نہایت دقیق رہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ (المائدة: ۳۶) تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو ستے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں هَذَا بِمَا صَلَّيْتَ عَلَى مُحَمَّدٍ۔( یہ سب کچھ محمد ﷺ پر درود بھیجنے کی وجہ سے ہے۔ناقل ) (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۲۸ حاشیه ) نیز براہین احمدیہ حصہ چہارم کے صفحہ ۵۰۲ پر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمدؐ کی طرف بھیجی تھیں۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم