مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 239

مضامین ناصر — Page 155

۱۵۵ ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ایک مامور کو جسے اس نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مبعوث کیا ہے ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔وہ مامور اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے اور تبلیغ واشاعت کے ذریعے اسے ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے آیا ہے۔ہم بھی کسی صورت اس بات پر اکتفا نہیں کر سکتے کہ ہم نے خدا کے مامور کو مان لیا ہے اور اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر اعمال درست کر لئے ہیں۔بے شک یہ بھی ایک اہم فرض ہے اور اس کو ادا کرنا بھی ضروری ہے لیکن جس مامور کو ہم نے مانا ہے اس کی بعثت کی صرف اتنی ہی غرض نہیں ہے۔اس کی بعثت کی غرض ساری دنیا کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا کر تمام بنی نوع انسان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنا ہے۔انہیں محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں لا کر خدائے واحد کا پرستار بنانا ہے۔پس ہمارا کام یہیں ختم نہیں ہو جاتا کہ ہم مامور پر ایمان لا کر اپنی زندگیوں کو اسلامی احکام کے مطابق بنالیں۔ہمیں اس سے آگے قدم بڑھا کر ایک بہت بڑی منزل سر کرنی ہے۔ہمیں اس مامور کی لائی ہوئی روشنی یعنی حقیقی اسلام کو دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پھیلانا ہے اور دنیا کے چپہ چپہ پر خدا کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے۔یہ کام اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بہت عظیم جدوجہد اور عظیم قربانیوں کا متقاضی ہے۔ہم اس وقت تک چین سے بیٹھ ہی نہیں سکتے جب تک کہ یہ عظیم مقصد پورا نہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعثت کا مقصد مختصراً ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔پہلا کام مسیح کا یہ ہے کہ اس کا آنا) مسیح کا آنا اس لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے کہ تا تمام قوموں پر دین اسلام کی سچائی کی حجت پوری کرے تا دنیا کی ساری قوموں پر خدائے تعالیٰ کا الزام وارد ہو جائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مسیح کے دم سے کا فر مریں گے۔یعنی دلائل بینہ اور براہین قاطعہ کی رو سے وہ ہلاک ہو جائیں گے۔دوسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ اسلام کو غلطیوں اور الحاقات بے جاسے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح اور راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھے۔