مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 239

مضامین ناصر — Page 154

قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔۱۵۴ اُدھر کفر نے یہ سکیم بنائی کہ کمزور وضعیف اور نحیف و نزار صحابہ کی طرف سے جو خدائی آواز بلند ہوئی ہے اسے طاقت کے بل پر دبا دیا جائے۔کفار نے فی الواقعہ اس آواز کو دبانے میں اپنی پوری طاقت صرف کر ڈالی۔دوسری طرف صحابہؓ نے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم کر چکے تھے پوری مستعدی، ذمہ داری اور فرض شناسی کا ثبوت دیا۔کوئی چیز بھی ان کے اس عزم کے بروئے کار آنے میں روک نہ بن سکی۔وہ خدا تعالیٰ کی آواز کو جسے انہوں نے اسی کے حکم سے بلند کیا تھا بلند سے بلند تر کرتے چلے گئے۔انہوں نے اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔اُن کی اس قربانی پر خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق وہ عظیم الشان معجزہ ظاہر فرمایا کہ جس پر آج بھی دنیا والے حیرت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہتے۔اُس نے جاہ وحشمت رکھنے والی قوموں کے خونخوار اور جابر سرداروں کو مسلمانوں کی ٹوٹی ہوئی زنگ آلود تلواروں سے ہلاک کروا ڈالا اور بہت قلیل عرصہ میں مسلمانوں کو بحر و بر کا مالک بنا دیا۔خدا تعالیٰ نہیں چاہتا تھا اور اُس کے منشاء کے مطابق مسلمان بھی اس بات کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ اسلام کے مقابلہ میں کفر کامیاب ہو۔وہ بدر کے میدان میں اس یقین کے ساتھ گئے تھے کہ ہم ۳۱۳ کے ۳۱۳ بھی مارے گئے تب بھی اسلام نا کام نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں خدا ایک اور قوم کو کھڑا کر دے گا وہ کفر کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دے گی۔یہی وہ عزم اور یقین تھا جو خدائی نصرت کے ماتحت مسلمانوں کو کامیاب کرتا چلا گیا۔صحابہ نے جس والہانہ جذبے کے ساتھ قربانیاں پیش کیں تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ان کا یہ والہانہ جذبہ ہی تھا جس کے زیر اثر وہ تھوڑے ہوتے ہوئے بھی عظیم لشکروں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے اور بالآخر فتح یاب ہو کر ہی واپس لوٹتے تھے۔پھر انہی صحابہ میں سے وہ جانباز پیدا ہوئے جو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔جغرافیائی حدود پھاند کر اور سمندر عبور کر کے وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور وہاں اسلام کا پیغام پہنچا کر اور مختلف اقوام کو اسلام کی آغوش میں لا کر آنحضرت ﷺ کے مشن کو پورا کیا۔