مضامین ناصر — Page 137
۱۳۷ (۸) دائیں ہاتھ سے کھاؤ تا تمہارا حساب بھی تمہیں دائیں ہاتھ میں ملے۔کھانے کو نمکین چیز سے شروع کرو۔( عام طور پر ) اور اگر آخر پر میٹھا بھی کھاؤ تو بعد میں منہ نمکین کر لیا کرو۔(۹) چھوٹے چھوٹے لقے لو اور انہیں خوب اچھی طرح چباؤ کہ اس طرح تھوڑے کھانے سے جسم زیادہ قوت حاصل کرے گا اور جب تک ایک لقمہ اچھی طرح چبا کر کھا نہ لو دوسرا لقمہ منہ میں نہ ڈالو کہ یہ بات وقار کے بھی خلاف ہے اور صحت کے لئے بھی مضر۔(۱۰) کسی کھانے کی مذمت نہ کرو۔جو چیز مرغوب ہے اور طبیعت کے موافق ہے اسے کھالو اور جو طبیعت کے موافق نہیں اسے نہ کھاؤ مگر مذمت نہ کرو کہ یہ بات بھی تکبر کا ایک پہلو لئے ہوئے ہے کہ جو چیز میری طبیعت کے موافق نہیں مگر دوسروں کی طبیعت کے موافق ہے وہ گھٹیا اور بُری ہے۔انانیت کا یہ مظاہرہ ہمارے خدا کو پسند نہیں۔(۱۱) اپنے سامنے سے کھاؤ، بے وقری اور حرص کے ساتھ رکابی میں ادھر اُدھر ہاتھ نہ مارو۔(۱۲) کھانا اس طرح نہ کھاؤ کہ اس کا کچھ حصہ ضائع ہو جائے جس طرح کہ آج کی مہذب دنیا کر رہی ہے کہ یہ بھی کفران نعمت ہے۔(۱۳) ہاتھ سے کھاؤ یا چھری کانٹے سے کھاؤ مگر تکلف سے پر ہیز کر واور کسی ایک طریق کو اپنی بڑائی کا معیار یا دوسرے کی حقارت کی وجہ نہ بناؤ۔(۱۴) کھانے میں پھونک نہ مارو کہ ایک تو اس سے دوسروں کو کراہت پیدا ہوگی۔دوسرے خود تمہاری صحت پر بھی اس کا بُرا اثر پڑے گا۔اسی طرح منہ سے کوئی چیز نکال کے کھانے کی رکابی میں نہ رکھو کہ اس سے بھی رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔(۱۵) کھانے کے دوران میں زیادہ پانی نہ پیو، البتہ کچھ پانی پینا صحت ہاضمہ کے لئے ضروری ہے۔(ماہنامہ انصار اللہ ربوہ اپریل ۱۹۶۱ء صفحہ ۲۷ تا ۲۹) (بقیہ مضمون میسر نہیں ہوسکا) ☆☆