مضامین ناصر — Page 8
کے یہ لوگ اپنا کام فارغ البالی سے کر سکیں۔کیونکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب کسی قوم کی تعریف کی جائے اور اس کی خوبیوں کو اچھے پیرایہ میں ظاہر کیا جائے۔تو آہستہ آہستہ اس قوم کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض احسن طور پر ادا کر دیا ہے اور یہ کہ اپنے بوجھ اور ذمہ داری کو ہم نبھا چکے ہیں اور ہم پر اب کسی قسم کا الزام نہیں جس کا یقینی نتیجہ ستی اور اپنے فرض سے غفلت ہوتی ہے اور کسی قوم کا یہ خیال کہ اب ہم انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔تنزل نہیں !نہیں ! بلکہ موت کے مترادف ہوتا ہے۔مگر میں ہندو قوم کو بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ مذاہب جن کی بنیاد خدا اپنے ہاتھوں سے رکھتا ہے اور جن کا بڑا ستون حق اور سچائی ہوتا ہے۔وہ کبھی اس قسم کی چالوں میں نہیں آسکتے اور جو خدا تعالیٰ کی گود میں پرورش پانے والے ہوتے ہیں اور جن کی ربوبیت کرنے والا وہ یکتا خدا ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا۔روحوں کو بھی اُس نے ہی پیدا کیا اور مادہ بھی اسی کی مخلوق بننے سے باہر نہ رہا۔وہ لوگ کبھی اس قسم کے جالوں میں نہیں پھنسا کرتے اور میں یہ بھی کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بجائے اس کے کہ ہم اس قسم کی تدابیر سے سست ہوں۔ایسی باتیں اور ایسے مضامین تو ہمارے اندر چستی پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اور ہماری کمزوریوں کو ہم پر ظاہر کر کے اور آگے قدم بڑھانے کی روح پھونکتے ہیں۔پھر میں با نگ بلند ان کو یہ بھی سنا دیتا ہوں کہ خواہ وہ حق کو مٹانے کے لئے ایڑیوں تک زور لگا ئیں۔اپنے سارے مالوں کو اسی کام کے لئے وقف کر دیں اور خواہ وہ باطل کی تائید کے لئے اپنی جانیں تک دے دیں اور دنیا کا کوئی حیلہ اور تدبیر نہ چھوڑیں جس کو انہوں نے باطل کے پھیلانے میں استعمال نہ کیا ہو۔تب بھی ہرگز ہرگز وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور کبھی وہ حق کو دنیا سے مٹا نہیں سکتے اور کس طرح وہ خدا کے دین کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا سکتے ہیں۔جبکہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ اپنے پورے کمال سے چھکے اور دنیا کے کناروں تک پھیل جائے اور کون ہے جو خدا کے لکھے کو مٹا سکے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا مقابلہ کر سکے؟ میں اپنے احمدی بھائیوں سے بھی یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ وقت نازک ہے اور دشمن پورے زوروں پر۔بادشند کے جھونکے چمن اسلام کے نازک پھولوں کو ٹکر اٹکرا کر گرانا چاہتے ہیں۔اور شیطان