مضامین ناصر — Page 115
۱۱۵ پرند اور دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ - عَلَّمَهُ الْبَيَانَ الرحمن : ۴، ۵ ) آداب ہم دیکھیں کہ ہمارے ہادی و مطاع محمد رسول اللہ ﷺ نے زبان کی استواری اور صحیح استعمال کے لئے ہمیں کیا ہدایات فرمائی ہیں، ہم پر اس بارہ میں کون سی پابندیاں عائد کی ہیں اور اس کے صحیح استعمال کے لئے کون سے راستے آپ نے ہم پر کھولے ہیں۔اس تعلق میں میں پہلے نواہی کولوں گا اور پھر اوامر کو میں پہلے بڑے ہی اختصار کے ساتھ اوامر کا ذکر کروں گا اور پھر اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کو لے کر نسبتا تفصیلی نوٹ آپ دوستوں کے سامنے پیش کروں گا۔إِنْشَاءَ اللَّهُ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقِ اس وقت اس سلسلہ میں میں مندرجہ ذیل ہیں نواہی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن کے ماخذ قرآن کریم اور احادیث نبوی مے ہیں۔مگر ان کے حوالہ جات میں انشاء اللہ اپنے تفصیلی نوٹ میں پیش کروں گا۔(۱) جھوٹ مت بولو۔یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔بہت سی بدیوں اور بداعمالیوں کا یہ منبع ہے اور نفاق کی ایک بڑی علامت۔(۲) جھوٹے وعدے نہ کرو۔غلط امیدیں دلا کر اپنے کام نکالنا تمہاری شان سے بعید ہے۔اَوْفُوا بِالْعُقُودِ تمہارا طرۂ امتیاز اور عِدَةُ الْمُؤمِن كَاخُذِ الْكَتِ تمہارا مقام ہے۔(نوٹ ) جھوٹ کا تعلق ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے اور جھوٹے وعدے مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں۔مذکور بالا ہر دو نواہی سے اسلام نے ماضی اور مستقبل سے تعلق رکھنے والے ہر دو قسم کے جھوٹ کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔(۳) غیبت کی باتیں نہ کرو۔تمہاری فطرت صحیحہ اسے پسند نہیں کرتی کہ کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی باتیں کرو خواہ بچی ہی کیوں نہ ہوں جنہیں وہ پسند نہیں کرتا۔(۴) تہمت کے بول نہ بولو کہ جھوٹ اور افترا کا یہ مجموعہ ایک نہایت ہی گھناؤنا عیب ہے۔(۵) چغلی نہ کھاؤ۔ادھر کی اُدھر لگانے سے تمہیں تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔مگر اس سے اسلامی