مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 239

مضامین ناصر — Page 114

۱۱۴ زبان محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے ( آکسن ) صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے ماہنامہ انصار اللہ میں اوامر و نواہی کے زیر عنوان ایک نہایت ہی عالمانہ قیمتی اور مفید سلسلہء مضامین کا آغاز فرمایا ہے۔ماہنامہ انصار اللہ کے پہلے دوشماروں میں اس کی دو قسطیں شائع ہوئی ہیں۔جو اپنی ہمہ گیر افادیت کے پیش نظر اس قابل ہیں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔لہذا ہم ماہنامہ انصار اللہ کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں شائع کر رہے ہیں۔(ادارہ) اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اعضاء دیئے ہیں۔آنکھ دی ہے جس سے ہم رنگوں اور شکلوں کو دیکھتے ہیں۔کان دیئے ہیں جن سے ہم صوتی لہروں کو سنتے ہیں۔ناک دی ہے جس سے ہم خوشبو اور بد بوسونگھتے اور حظ اٹھاتے یا تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ہاتھ دیئے ہیں جن سے ہم پکڑنے کا کام لیتے ہیں اور زبان دی ہے جس سے ہم چکھتے اور بولتے ہیں وغیرہ وغیرہ ان سب اعضاء میں زبان کو ایک خاص اور بڑا اہم مقام حاصل ہے۔اس لئے کہ ہم اس سے صرف چکھتے ہی نہیں بلکہ بولتے اور بیان بھی کرتے ہیں۔آنکھیں صوتی لہروں کوسن نہیں سکتیں۔کان خوبرو اور بدرو میں امتیاز نہیں کر سکتے۔یہی حال دوسرے اعضاء کا ہے۔جن کا عمل غیر محدود دائرہ میں بند ہے۔زبان کا حال اس سے مختلف ہے۔ہمارا ہر وہ عضو جو اپنے محسوسات کو ہمارے دماغ تک پہنچاتا ہے اور خود ہمارا دماغ جوان محسوسات کو سمجھتا ان پر غور و فکر کرتا اور ان سے نتائج اخذ کرتا ہے، وہ ان نتائج کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے زبان یا بیان کا محتاج ہے اور قوت بیان ہی ہے جو انسان کو چرند