مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 77 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 77

مضامین بشیر جلد چهارم 77 نازک بیماری پر ایک سال کا طویل عرصہ گزر رہا ہے یہ خاکسارا اپنے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں ان کا اجتماعی فرض یاد دلاتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ ہماری جماعت کا یہ دور نازک ہے اور بے حد نازک ہے۔جب کہ ایک طرف امام کی شدید بیماری ہے اور دوسری طرف دنیا میں غیر معمولی حالات پیدا ہور ہے ہیں اور قومی زندگی کی کشمکش بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔اس لئے انہیں دعاؤں یعنی زندہ اور تڑپتی ہوئی دعاؤں کے علاوہ مندرجہ ذیل امور کی طرف خاص بلکہ خاص الخاص توجہ دینی چاہئے: (1) جماعت کے عقائد اور خیالات کے متعلق جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور ان غلط فہمیوں نے ہمارے راستہ میں گویا ایک پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے۔انہیں بار بار کی وضاحت اور تکرار اور دلکش تشریح اور محبت اور ہمدردی کے ذریعہ دور کیا جائے۔اور اس میدان میں ایسے والہانہ رنگ میں کام کیا جائے کہ ہمارے اردگرد کے سیاہ بادل جلد سے جلد چھٹ جائیں اور فضا ہر قسم کے تکدر سے پاک ہو جائے اور خدائی کلمہ کا بول بالا ہو۔یہ ایک نہایت ضروری فرض ہے جس کے بغیر ہمارے لئے کوئی تسکین نہیں اور نہ کوئی ترقی۔(2) افراد جماعت ( مردوں اور عورتوں اور نوجوانوں اور بچوں ) کی تربیت پر اتنا زور دیا جائے اور ایسی توجہ کی جائے کہ ہر احمدی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کا پاک نمونہ بن جائے۔اور دنیا کو ان کے وجود میں وہ روحانی کشش نظر آئے جو ہمیشہ سے الہی جماعتوں کا طرہ امتیاز رہی ہے۔دیکھو محض نام کا مسلمان یا نام کا احمدی کہلانا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ نام کا ایمان اور رسمی عمل تو انسان کو خدا کے حضور دوہرا مجرم بنا دیتا ہے۔پس اپنے اندر وہ پاک تبدیلی پیدا کرو جو ایک مومن کو مقناطیس بنا دیتی ہے تا کہ دنیا کی زبانیں پکار اٹھیں اور کرشمہ دامن دل کو کھینچے کہ: جا این جا است تم محض منہ کی تبلیغ سے دنیا کے دل فتح نہیں کر سکتے بلکہ دلوں کو فتح کرنے کے لئے تمہارے اندر کچی روحانیت اور خدائے عرش کے ساتھ زندہ اور بولتا ہوا تعلق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر ایسا عمل درکار ہے جو مٹی کو سونا بنادیتا ہے۔نمازوں میں پابندی ہو، دعاؤں میں شغف ہو، لین دین میں صفائی ہو ، تجارت میں دیانت ہو، آپس میں محبت اور اتحاد ہو، مخلوق خدا کے ساتھ شفقت اور ہمدردی ہو، خدا کے دین کے لئے مسلسل مالی قربانی کا جذبہ ہو، مرکز کے ساتھ پختہ وابستگی اور جماعتی کاموں میں اتنا شغف اور اتنی یک جہتی ہو کہ تم ایک بنیان مرصوص بن جاؤ اور شیطان تمہارے قلعہ پر نقب لگانے سے مایوس ہو جائے۔سوائے مقامی امیر و! اور اے ضلع وارا میرو! اور صوبائی امیر و اوراے وے تمام