مضامین بشیر (جلد 4) — Page 78
مضامین بشیر جلد چهارم 78 لوگو! جو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت میں اثر ورسوخ رکھتے ہو کیا آپ میری آواز کو سنتے ہیں؟ اور کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ حضرت صاحب کی اس بیماری کے ایام میں اپنے اس فرض کو زیادہ توجہ اور زیادہ بیدار مغزی اور زیادہ للہیت سے ادا کریں گے؟ (3) تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے بیرونی مبلغ جو اس وقت خدا کے فضل سے دنیا کے اکثر آزاد ممالک میں اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہیں وہ اپنی کوششوں کو دو چند بلکہ سہ چند بلکہ چہار چند بلکہ بے شمار چند کر دیں تا کہ بیرونی ممالک میں اسلام کی سر بلندی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کا بول بالا ہو۔اور اس خدمت پر خدائے عرش ہم پر ایسا خوش ہو جائے کہ ہماری بعض کمزوریوں کے باوجود ہمارے لئے دائمی وعدہ کا دن قریب تر لے آئے جس کی اس نے اپنے مسیح کے ذریعہ ہمیں بشارت دی ہے۔پس اے یورپ اور امریکہ اور ایشیا اور افریقہ میں کام کرنے والے مبلغو ! میری اس آواز کو سنو اور اپنی مشتاقانہ اور والہانہ تبلیغ کے ذریعہ اپنے خدا کو خوش اور ہمارے دلوں کو ٹھنڈا اور اپنی عاقبت کو محمود بنانے کی کوشش کرو۔بلکہ افریقہ کے پسماندہ ممالک تمہاری توجہ کے زیادہ حق دار ہیں۔کیونکہ اس ذریعہ سے تم اپنے رسول (فداہ نفسی) کی اس پیش گوئی کو پورا کرنے والے بنو گے۔جس میں کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں نخوت یعنی پستی میں پڑی ہوئی اقوام بیدار ہو کر اٹھیں گی اور ان کی ترقی کا دور آئے گا۔اور اس ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئی بھی پوری ہوگی کہ ایک بحر ذخار جو سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا مغرب سے مشرق کی طرف بہہ رہا ہے۔وہ حضور کے دیکھتے دیکھتے پلٹا کھا کر مشرق سے مغرب کی طرف بہنے لگ گیا ہے۔(4) پھر میں اس موقع پر اپنے ان بزرگوں اور بھائیوں اور عزیزوں سے بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جو اس جماعت کے مرکزی نظام میں ناظروں یا وکیلوں کے عہدوں پر فائز ہیں کہ حضرت صاحب سے اتر کر ان کا کام انتہائی ذمہ داری کا کام ہے اور گویا وہ جماعت کے نائب گڈریے ہیں انہیں چاہئے کہ اس وقت بہترین گڈریے ثابت ہوں۔کیونکہ وہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کے جانشین ہیں ( یہ حضرت مسیح موعود کے الفاظ ہیں ) ان کے سب کام انتہائی بیدار مغزی اور تقویٰ اور محنت اور جانفشانی اور انصاف اور للہیت پر مبنی ہونے چاہئیں اور انہیں دوسروں کے لئے بہترین نمونہ بننا چاہئے۔ان میں ایک طرف محبت اور شفقت اور اخوت کا زبر دست جذ بہ موجزن ہو اور دوسری طرف چوکسی نگرانی اور حسب موقع اصلاحی قدم اٹھانے میں بھی غفلت نہ برتی جائے۔کیونکہ اچھا انتظام انہی دو انتہاؤں کے درمیان پروان چڑھا کرتا ہے۔پس اب جبکہ ہمارا امام بیمار ہے اور ہم ایک عرصہ سے اس کے خطبات اور کلمات اور تحریکات اور تفصیلی