مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 72

مضامین بشیر جلد چهارم 72 باندھ کر مکانوں میں یا قبروں پر کی جاتی ہے۔اس قسم کی رسمی تلاوت قرآن وحدیث یا صحابہ کرام کے اقوال و افعال میں قطعاً کوئی سند نہیں ملتی۔یہ باتیں یقیناً بعد کی ایجاد کی ہوئی بدعتیں ہیں جو لوگوں نے زمانہ نبوی سے دوری کے نتیجہ میں از خود اختراع کرلی ہیں۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: مردہ پر قرآن ختم کرانے کا کوئی ثبوت نہیں۔صرف دعا اور صدقہ میت کو پہنچتا ہے“ دوسری جگہ فرماتے ہیں: (بدر 16 مارچ 1904ء) قرآن شریف جس طرز سے حلقہ باندھ کر پڑھتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں۔ملاں لوگوں نے اپنی آمد کے لئے یہ رسمیں جاری کی ہیں۔“ (الحام 10 نومبر 1907ء) الغرض یہ اور اسی قسم کی دوسری باتیں جن کا کوئی ثبوت قرآن مجید یا حدیث یا صحابہ کرام کے اقوال و افعال میں نہیں ملتا اور نہ ہی کسی مامور مجدد کے طریق میں نظر آتا ہے۔یہ سب خلاف سنت رسوم اور فیج اعوج کے زمانہ کی بدعتیں ہیں جن سے جماعت احمدیہ کے افراد کو کلیتہ بیچ کر رہنا چاہئے۔ایسی باتوں میں پڑنے سے انسان آہستہ آہستہ دین کے مرکزی نقطہ سے اکھڑ جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں آخری زمانہ میں اپنی امت کے فساد کا ذکر فرمایا ہے وہاں صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ میری امت بہت سے فرقوں میں بٹ جائے گی اور جب صحابہ نے آنحضور سے پوچھا کہ اس وقت حق پر کون ہوگا تو آپ نے فرمایا کہ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي یعنی حق پر وہ لوگ ہوں گے جو میری اور میرے صحابہ کی سنت اور مسلک پر قائم ہوں گے پس جماعت احمدیہ کو اس مبارک مسلک پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا چاہئے اور اس سے سرِ مو انحراف نہیں کرنا چاہئے۔اور خدا کے فضل سے ایسا ہی ہے۔والشاذ کالمعدوم۔دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ اسلام بڑا پیارا اور عمل کے غرض سے بڑا سادہ مذہب ہے۔اسی لئے قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وَلَقَدْ يَسَّرُنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرِ (القمر: 18) یعنی ہم نے قرآنی تعلیم کو عمل کرنے کی غرض سے بہت آسان صورت دی ہے تو کیا اب بھی اے انسان ! تو اس سے نصیحت حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں؟ اسلام یعنی حقیقی اسلام کا خلاصہ یہ ہے ( اور یہی وہ کھونٹا ہے جس کے ساتھ وابستہ رہ کر انسان یقینی طور پر