مضامین بشیر (جلد 4) — Page 71
مضامین بشیر جلد چهارم 71 دنیا میں کیا کرتا تھا یا کم از کم ان کے کرنے کی نیت اور خواہش رکھتا تھا۔مگر اپنی وفات کی وجہ سے ان کے جاری رکھنے یا انہیں بجالانے سے معذور ہو گیا۔اس صورت میں اگر مرنے والے کی طرف سے اس کا کوئی عزیزیا دوست یا وارث یہ عمل بجالائے اور نیت یہ رکھے کہ اس کا ثواب مرنے والے کو پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایسے عمل کا ثواب مرنے والے کو پہنچ جاتا ہے۔مگر شرط بہر حال یہی ہے کہ مرنے والا خود بھی اس عمل کی نیت یا خواہش رکھتا ہو۔یا اسے اپنی زندگی میں بجالایا کرتا ہو۔ورنہ ایسا ہر گز نہیں کہ کسی بے دین اور بدعمل شخص کی وفات کے بعد اس کی طرف سے نیک عمل بجالا کر یہ امید رکھی جائے کہ اسے اس کا ثواب پہنچ جائے گا۔یہ ایک امید خام ہے جس کی شریعت میں کوئی سند نہیں۔حدیث میں صاف آتا ہے کہ موت کے ساتھ مرنے والے کا عمل ختم ہو جاتا ہے اور صرف ایسی نیت کا اثر چلتا ہے جس سے کوئی نیک انسان مجبوری کی صورت میں محروم ہو گیا ہو۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام چہلم کی رسم کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ رسم ( نبی کریم اور صحابہ کرام کی ) سنت سے باہر ہے (بدر 14 فروری 1907ء) یہی اصول نیاز والی رسم پر چسپاں ہوتا ہے جس کی کوئی سند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفاء راشدین یا صحابہ کرام یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا آپ کے خلفاء کے زمانہ میں نہیں ملتی۔البتہ کبھی کبھی کسی ایسے بزرگ کی طرف سے کھانا پکا کر ہمسایوں اور غرباء کو کھلا نا جو خود اپنی زندگی میں غرباء کی امداد پر عامل رہا ہو جائز ہے۔بشرطیکہ اسے رسم کا رنگ نہ دیا جائے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی خاص دل مقرر کیا جائے۔جس کے نتیجہ میں لازماً آہستہ آہستہ رسم کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے جسے اسلام ہر گز پسند نہیں کرتا ہے۔موجودہ مسلمانوں کی عملی حالت کو انہیں رسوم نے تباہ کیا ہے اور ایک سادہ اور پاک مذہب کی صوت بگاڑ کر رکھ دی ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حضرت سرور کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) زندہ ہوکر اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں تو آپ نہ تو موجودہ مسلمانوں کے اسلام کو اپنے لائے ہوئے دین کی صورت میں پہچان سکیں گے اور نہ ہی موجودہ زمانہ کے عام مسلمانوں کو اپنی امت کے افراد یقین کر سکیں گے۔افسوس صد افسوس کہ بدعتوں کے بے پناہ داغوں نے اسلام کی پیاری صورت کو کس طرح بگاڑ رکھا ہے۔!!! چوتھی رسم ختم قرآن کی ہے۔اس جگہ قرآن خوانی سے گھروں میں یا نماز کے اوقات میں یا مسجدوں میں کلام پاک کی تلاوت مراد نہیں۔وہ تو سراسر رحمت ہے۔بلکہ حقیقتاً مومن کی روح کے اطمینان کی کنجی ہے۔بلکہ میری مراد اس جگہ ختم قرآن سے وہ رسمی قرآن خوانی ہے جو کسی فوت ہونے والے کے ثواب کی خاطر حلقہ