مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 66

مضامین بشیر جلد چهارم 66 ہے۔ورنہ سچا ایمان اور سچا اخلاص تو اس مینار کی طرح ہوتا ہے جسے کوئی زلزلہ یا مصیبت کا کوئی دھکایا بدلے ہوئے حالات کا کوئی جھٹکا اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔پس سب سے پہلے میری نصیحت اس عزیزہ مستورہ کو یہ ہے کہ وہ اپنے نفس اور اپنے ماحول کا جائزہ لیں اور پھر گہری نظر سے غور کریں کہ ان کے حالات میں تبدیلی پیدا ہونے کی حقیقی وجہ کیا ہے؟ لیکن بہر حال مایوس ہرگز نہ ہوں۔مومنوں پر بلکہ سچے اور پختہ مومنوں پر بھی بلکہ میں یہاں تک کہتا ہوں کہ اولیاء اللہ پر بھی بعض اوقات قبض و بسط کے حالات آتے رہتے ہیں۔کبھی ان کی حالت میں بسط کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جب وہ بڑے شوق و ذوق کے ساتھ دوڑتے ہوئے خدا کی طرف بڑھتے ہیں اور نیک اعمال بجالانے میں سبقت کا رنگ پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن کبھی قبض کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ ان کے دلوں میں اس قسم کی بشاشت اور ذوق وشوق کی کیفیت نہیں رہتی۔لیکن سچے مومن ایسی حالت میں بھی طبیعت پر زور دے کر فرائض کی ادائیگی میں سستی نہیں کرتے۔ہماری پریشان بہن کو چاہئے کہ وہ بالکل نہ گھبرائیں اور خدا کی وسیع رحمت پر بھروسہ رکھ کر خدا کے دامن سے چمٹی رہیں۔اور اگر نوافل کی توفیق نہیں ملتی تو کم از کم فرائض کی ادائیگی میں ہرگز غفلت نہ کریں۔فرائض کے میدان میں سب سے مقدم چیز نماز کی ادائیگی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ نماز وہ چیز ہے جس میں میرے لئے آنکھ کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔اور آپ تصحابہ کو نصیحت فرماتے تھے کہ ایسے رنگ میں نماز ادا کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم خدا تم کو دیکھ رہا ہے۔ہماری اس پریشان بہن کو یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کی رحمت بہت وسیع ہے۔اس نے خود فرمایا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔آپ ان نعمتوں کا تصور کر کے اپنے دل میں شکر کے جذبات پیدا کیا کریں جو خدا نے آپ پر کر رکھی ہیں۔یعنی اسلام میں پیدا کیا ، احمدیت کی توفیق دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا قرب عطا کیا۔یہ وہ بابرکت زمانہ ہے جس پر آئندہ آنے والی نسلیں فخر کیا کریں گی اور اسے حسرت کے ساتھ یاد کیا کریں گی۔نیز میری یہ بھی نصیحت ہے کہ جب آپ کے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوا کرے تو اس کے لئے تین نسخے اختیار کیا کریں۔یعنی یا تو قرآن شریف کی تلاوت کیا کریں جو ہمارے آسمانی آقا کا با برکت کلام اور سرا سر رحمت ہے یا نماز میں دل کی تسلی پانے کی کوشش کیا کریں جو گویا خالق و مخلوق کے درمیان ملاقات کا رنگ رکھتی ہے۔اور یا اپنے ماحول کو بدل کر ایسے پریشانی کے وقت میں کسی