مضامین بشیر (جلد 4) — Page 65
مضامین بشیر جلد چهارم ہے۔پس یہ ثواب کا موقع ہے۔(محررہ 25 اپریل 1960ء)۔۔۔۔۔۔۔55 65 (روز نامہ الفضل 21 اپریل 1960ء) پریشان خاتون توجہ فرمائیں میرے نام ایک احمدی خاتون کا خط محررہ 17 اپریل 1960 ء موصول ہوا ہے۔جس میں انہوں نے اپنا نام اور پتہ نہیں لکھا۔لیکن اپنے بعض اعتقادی اور عملی پریشانیوں کا ذکر کر کے مشورہ مانگا ہے۔میں سمجھ نہیں سکا کہ انہوں نے اپنا نام چھپانے میں کیا مصلحت سمجھی ہے۔احمدی مستورات میں یہ اخلاقی جرات ہونی چاہئے کہ اگر انہیں کوئی مشکل پیش آئے یا کسی معاملہ میں پریشان خیالی لاحق ہو تو کسی قسم کا حجاب محسوس کرنے کے بغیر اس کا اظہار کر دیا کریں۔حدیث میں آتا ہے کہ مسلمان خواتین اپنی ہر قسم کی مشکلات بڑی صفائی اور جرات کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا کرتی تھیں۔اور حضور کے مشورے سے فائدہ اٹھاتی اور برکت حاصل کرتی تھیں۔بہر حال ہماری اس پریشان بہن نے اپنے خط میں اس قسم کی پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ میں پہلے بہت نیک ہوتی تھی اور اعمال صالحہ بجالانے کی آرزو مند رہتی تھی اور خدا کی ذات پر مجھے کامل تو کل اور بھروسہ ہوتا تھا اور اس کے فضل و رحمت کا سہارا ڈھونڈتی تھی مگر اس کے بعد میرے دل و دماغ میں کئی قسم کے اوہام اور پریشان کن خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے۔جس کی وجہ سے میرے ایمان و عمل کی وہ حالت نہیں رہی جو پہلے تھی۔گو ساتھ ہی اس پریشان خاتون نے یہ بھی لکھا ہے کہ اب میری حالت پھر کسی قدر بہتر ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس قسم کی پریشان خیالی یا تو اعصابی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی ہے اور یا ایمانی کمزوری اس کا باعث ہوتی ہے۔بعض اوقات نوجوان مرد اور نو جوان عورتیں سنی سنائی باتوں کی وجہ سے ایک رنگ کا رسمی سا اخلاق پیدا کر لیتے ہیں جو ان کے دلوں کی گہرائیوں تک نہیں پہنچتا بلکہ محض سطحی رنگ رکھتا ہے۔جس کے بعد ماحول کے بدلنے یا کسی اعصابی تکلیف پیش آنے یا غیر شعوری طور پر کسی بُری صحبت سے متاثر ہونے کے نتیجہ میں ان کے حالات اور خیالات میں تبدیلی آجاتی