مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 533 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 533

مضامین بشیر جلد چہارم 533 لیکھرام کے حالات میں جس واقعہ کا ذکر اس رسالہ میں اوپر گزر چکا ہے وہ اس محبت کی ایک عام اور دلچسپ مثال ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود نہایت درجہ وسیع القلب اور ملنسار تھے اور ہر دوست و دشمن کو انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ ملتے تھے۔جب پنڈت لیکھرام نے آپ کے آقا اور محبوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت بد زبانی سے کام لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تو آپ نے پنڈت صاحب کا سلام تک قبول نہ کیا اور دوسری طرف منہ پھیر کر خاموش ہو گئے اور جب کسی ساتھی نے دوبارہ توجہ دلائی تو غیرت اور غصہ کے الفاظ میں فرمایا کہ ”ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر اس سے عشق و محبت کے اس اتھاہ سمندر پر بے انتہا روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ کے دل میں موجزن تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ روایت بھی چھپ کر شائع ہو چکی ہے کہ ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ٹہلتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درباری شاعر حسان بن ثابت کا یہ شعر تلاوت فرمارہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جارہے تھے کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيُ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے۔سواب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آجاوے مگر مجھے اس کی پروا نہیں۔کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت دو کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔راوی بیان کرتا ہے کہ جب آپ کے مخلص رفیق نے آپ کو اس رقت کی حالت میں دیکھا تو گھبرا کر پوچھا کہ ” حضرت! یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا۔” کچھ نہیں۔میں اس وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔(سیرت المہدی ) مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ دوسرے بزرگوں کی محبت سے خالی تھے بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے آپ کے دل میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت