مضامین بشیر (جلد 4) — Page 32
مضامین بشیر جلد چهارم يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب : 57) شفقت على خلق الله 32 اب میں خدا کے فضل سے اپنے اس مضمون کے تیسرے حصہ کی طرف آتا ہوں جو شفقت علی خلق اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔میں نے اس مختصر سے مقالہ کے لئے (اول) محبت الہی اور ( دوم ) عشق رسول اور ( سوم ) شفقت علی خلق اللہ کے عنوان اس لئے منتخب کئے ہیں کہ ہمارے دین و مذہب کا خلاصہ اور ایک مسلمان کے ایمان واخلاق کا مرکزی نقطہ ہیں۔حتی کہ ایک مامور من اللہ کی روحانیت اور اس کے اخلاق اور اس کی قدرومنزلت کو پہچاننے کے لئے بھی اس سے بڑھ کر کوئی اور کسوٹی نہیں۔منبع حیات یعنی ذات باری تعالیٰ کے ساتھ گہرا پیوند ہو۔پیغام الہی کے لانے والے رسول کی محبت روح کی غذا ہو اور مخلوق خدا کی ہمدردی کا جذ بہ دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔بس ہمیں آمدنشان کاملاں۔“ میں نہایت اختصار کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جذبہ محبت الہی اور عشق رسول کے متعلق بیان کر چکا ہوں۔اب مختصر طور پر آپ کے جذبہ شفقت علی خلق اللہ کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔اس تعلق میں سب سے پہلے میرے سامنے وہ مقدس عہد آتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدائی حکم کے ماتحت ہر بیعت کرنے والے سے لیتے تھے اور جس پر جماعت احمدیہ کی بنیاد قائم ہوئی۔یہ عہد دس شرائط بیعت کی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور گویا احمدیت کا بنیادی پتھر ہے۔اس عہد کی شرط نمبر 4 اور شرط نمبر 9 کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ ہر بیعت کرنے والا : عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح “ اور عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائے گا۔“ اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ 12 جنوری 1889ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 جدید ایڈیشن) یہ وہ عہد بیعت ہے جو احمدیت میں داخل ہونے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی حکم کے ماتحت مقر فرمایا اور جس کے بغیر کوئی احمدی سچا احمدی نہیں سمجھا جا سکتا۔اب مقام غور ہے کہ جو شخص اپنی بیعت اور اپنے روحانی تعلق کی بنیاد ہی اس بات پر رکھتا ہے کہ بیعت کرنے والا تمام مخلوق کے ساتھ دلی