مضامین بشیر (جلد 4) — Page 31
مضامین بشیر جلد چهارم 31 ان اشعار میں حضرت مسیح موعود نے جس رنگ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار وافضال کی وسعت اور ان کے افاضہ اور اس کے مقابل پر اپنی عاجزی اور انکساری اور آپ کے انوار سے اپنے استفاضہ کا ذکر فرمایا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔دنیا کی تمام برکتوں اور تمام نوروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کی طرف منسوب کر کے اپنے آپ کو ان انوار کے ساتھ اس طرح پیوست کیا ہے کہ جس طرح ایک بڑے طاقت ور پاورسٹیشن کے ساتھ بجلی کی تاریں مل کر دنیا کو منور کیا کرتی ہیں۔اسی طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات طیبات کا ذکر کرتے ہوئے دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ: ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان پر لئے آتے ہیں۔اور ایک نے ان (میں) سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598 حاشیہ) الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسا عشق تھا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔آپ کی جان اس عشق میں بالکل گداز تھی۔ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا اور اپنے حواس ظاہری و باطنی سے محسوس کیا کہ آپ کا ذرہ ذرہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدائے محمد اور دین محمد میں پر قربان تھا۔آپ اپنی ایک نظم میں بڑے دردناک انداز میں فرماتے ہیں کہ : دے چکے دل اب تن خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب کیوں نہیں لوگو تمہیں خوف عقار (ازالہ اوہام) پس اس کے سوائے میں اس جگہ عشق رسول کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔کیونکہ ایک وسیع سمندر میں سے انسان صرف چند چگو ہی بھر سکتا ہے۔اس لئے اس عنوان کے تحت اب میرے لئے صرف یہی دعا باقی ہے کہ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ و عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ