مضامین بشیر (جلد 4) — Page 487
مضامین بشیر جلد چهارم 487 سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے۔اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں۔اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے (فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 10-11 ) اور بالآخر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں اور دوست غور سے سنیں کہ کس محبت اور کس درد کے ساتھ فرماتے ہیں کہ۔”اے میرے عزیز و! میرے پیارو!!! میرے درخت وجود کی سرسبز شا خو!!! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے میرے سلسلۂ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام اور اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔۔۔( سنو کہ میرا دوست کون ہے؟ اور میرا عزیز کون؟ وہی جو مجھے پہچانتا ہے۔مجھے کون پہچانتا ہے؟ صرف وہی جو مجھ پر یقین رکھتا ہے کہ میں (خدا کی طرف سے ) بھیجا گیا ہوں اور مجھے اُس طرح قبول کرتا ہے جس طرح وہ لوگ قبول کئے جاتے ہیں جو بھیجے گئے ہوں۔دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں۔مگر جن کی فطرت کو اُس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اُس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص و ہم اور بدگمانی کی وجہ سے دور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔مگر جو شخص میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت در پیش ہے اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی (یعنی روحانی رنگ میں اس کا نام ونشان تک مٹ جائے گا) مجھ میں کون داخل ہوتا ہے؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور بھی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک مطیع بندہ بن جاتا ہے۔ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اُس میں ہوں۔“ فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 34)۔خدا کرے کہ ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ ہمیش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ” درخت وجود کی سرسبز