مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 486 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 486

مضامین بشیر جلد چهارم 486 کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔(خدا) نے چاہا ہے کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو ( دلائل اور براہین کے ذریعہ ) موت کا مزا چکھاوے۔سواب وہ دونوں مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا۔اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا“ $24 ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 7) یہ سب کچھ جوا بھی بیان کیا گیا ہے خدائے عرش نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاما بتایا اور حضور نے دنیا پر ظاہر فرمایا اور وہ اپنے وقت پر پورا ہوگا اور ضرور ہو گا۔یہ ایک اٹل آسمانی تقدیر ہے جس کی تمام نبی اور تمام آسمانی پیغامبر اپنے اپنے وقت پر خبر دیتے آئے ہیں اور ہمارے آقا حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ روحی و جنانی) نے خاص طور پر خدا کی قسم کھا کر خبر دی تھی کہ مہدی اور مسیح کے ظہور سے آخری زمانہ میں اسلام کے دوسرے اور دائی غلبہ کا دور آئے گا اور صلیبی عقائد اور صلیبی طاقتوں کا ہمیشہ کے لئے زور ٹوٹ جائے گا اور ایک نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان۔مگر یہ بھی خدا کا ہی بنایا ہوا از لی قانون ہے کہ اس نے ہرامر میں کامیابی کے لئے تقدیر اور تد بیر کا مخلوط اور مشتر کہ نظام قائم کر رکھا ہے۔تقدیر خدا کی مشیت اور خدا کے حکم کے ماتحت آسمان کی بلندیوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کی تاریں فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جو خدا کے حکم سے پردہ غیب میں رہتے ہوئے خدائی نظام کو چلاتے ہیں۔اور تدبیر کی تاریں خدائے علیم و حکیم نے بندوں کے ہاتھ میں دے رکھی ہیں۔چنانچہ جب کسی مامور ومرسل کے ذریعہ دنیا میں کوئی نیا نظام قائم ہوتا ہے تو مومنوں کا گروہ خدا کی انگلی کو دیکھ کر اس کی تقدیر کے حق میں اپنی تدبیروں کو حرکت دینا شروع کر دیتا ہے۔اور پھر یہ دونوں حرکتیں مل کر دنیا میں ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کر دیتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے خدا کی طرف سے فتح اور غلبہ کی عظیم الشان بشارتوں کے باوجود ظاہری تدبیر کے ماتحت اسلام کی خدمت کے لئے اتنی قربانیاں کیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئندہ ہونے والے غیر معمولی تغیرات اور اسلام واحمدیت کے عالمگیر غلبہ کی پیشگوئی فرمائی ہے وہاں حضور نے اپنی جماعت کو بھی زبر دست تحریک کے ذریعہ ہوشیار کیا ہے کہ اس الہی تقدیر کے پیچھے اپنی تدبیر کے گھوڑے ڈال دو۔اور پھر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو، چنانچہ حضورفرماتے ہیں۔