مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 483 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 483

مضامین بشیر جلد چهارم 483 میں زندگی گزاری اور عاجزی اور فروتنی کے طریق پر اپنے خدا داد مشن کی تبلیغ کی اور ہمیشہ خدائے واحد کی پرستش میں اپنا وقت گزارا۔اور پھر بد بخت یہودیوں نے اسے صلیب کی سزا دلوادی۔مگر خدا نے اپنی معجزانہ تقدیر سے اسے اس لعنت کی موت سے بچا لیا۔مسیح کا کوئی ایک قول اس کی زندگی کا کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو اسے دوسرے نبیوں سے ممتاز کرتا ہو۔بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع اور ائیلی سلسلہ کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ اور ایک غیر تشریعی نبی کے طور پر پیش کرتا رہا اور چونکہ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ بھی ایک مُرسل یزدانی تھے اس لئے نہ صرف آسمانی برادری میں شامل ہونے کی حیثیت میں بلکہ مثیل مسیح ہونے کی حیثیت میں بھی آپ مسیح ناصری سے محبت کرتے اور اسے عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔مگر چونکہ آپ افضل الرسل حضرت خاتم النبیین سید ولد آدم کے قدموں میں ظاہر ہونے والے خاتم الخلفاء تھے اس لئے لازماً آپ کا درجہ خدا کے فضل سے مسیح ناصری سے بلند تھا۔چنانچہ آپ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ۔۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس بہتر غلام احمد ہے ( دافع البلاء ) دوسری طرف چونکہ مسیحیت کے عقائد بگڑ چکے تھے اور توحید کی جگہ تثلیث نے لے لی تھی جو شرک کا ہی دوسرا نام ہے اس لئے حضرت مسیح موعود نے اپنے فرض منصبی کے لحاظ سے مسیحیت کے باطل خیالات کا مقابلہ کرنے اور صلیب کے زور کوتوڑنے میں انتہائی توجہ دی اور تقریر اور تحریر کے ذریعہ ان کے غلط عقائد کا پورا پورا کھنڈن کیا حتی کہ مخالفوں تک نے آپ کو عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ”فتح نصیب جرنیل“ کے لقب سے یاد کیا اور اس کے مقابل پر مسیحیوں نے بھی ہر رنگ میں حضرت مسیح موعود کا مقابلہ کرنے اور حضور کو نیچا دکھانے کی سرتوڑ کوشش کی اور ہر طرح کی امکانی چالوں سے کام لیتے ہوئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر مقابلہ میں کامیاب اور سر بلند کیا اور آپ خدا کے فضل سے اس دار فانی سے کامیابی اور فتح و ظفر کا پر چم لہراتے ہوئے رخصت ہوئے اور اب آپ کے بعد آپ کی جماعت اپنے نہایت محدود وسائل کے باوجود آزاد دنیا کے قریباً ہر ملک میں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں دن رات لگی ہوئی ہے اور مسیحیت پسپا ہو رہی ہے اور اسلام ترقی کر رہا ہے۔اس تعلق میں ایک عجیب واقعہ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ بٹالہ کے مسیحیوں نے جو قادیان کے قرب کی وجہ