مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 482 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 482

مضامین بشیر جلد چهارم 482 یعنی ہمارا یہ مسیح دین کو اس کے کمزور ہو جانے کے بعد پھر زندہ کرے گا اور اسلامی شریعت کو دنیا میں پھر دوبارہ قائم کر دے گا۔بے شک مقابلہ سخت ہے اور بے حد سخت۔اور کفر و شرک کی فوجیں چاروں طرف سے اسلام پر حملہ آور ہورہی ہیں اور مادیت کی طاقتیں روحانیت کو کچلنے کے درپے ہیں مگر آخری فتح یقینا حق کی ہوگی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا داد مشن کامیاب ہو کر رہے گا۔حضور ایک جگہ خدا سے علم پا کر اپنے مشن کی کامیابی اور اسلام کے آخری غلبہ کے متعلق فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں۔”یقینا سمجھو کہ اس لڑائی میں اسلام کو مغلوب اور عاجز دشمن کی طرح صلح جوئی کی حاجت نہیں۔بلکہ اب زمانہ اسلام کی روحانی تلوار کا ہے۔جیسا کہ وہ پہلے کسی وقت اپنی ظاہری طاقت دکھلا چکا ہے۔یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں اور کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کاران کے لئے ہزیمت ہے۔میں شکر نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ اسلام کی اعلی طاقتوں کا مجھ کو علم دیا گیا ہے جس علم کی رُو سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام نہ صرف فلسفہ جدیدہ کے حملہ سے اپنے تئیں بچائے گا بلکہ حال کے علوم مخالفہ کو جہالتیں ثابت کر دے گا۔اسلام کی سلطنت کو ان چڑھائیوں سے کچھ بھی اندیشہ نہیں جو فلسفہ اور ( علوم ) طبعی کی طرف سے ہو رہے ہیں۔اس کے اقبال کے دن نزدیک ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 254 و 255 حاشیہ) $23 میں اپنی تقریر کے شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی دو بڑی غرضیں تھیں۔ایک غرض اسلام کے احیاء اور تجدید اور غلبہ سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری غرض کا تعلق کسر صلیب سے تھا۔یعنی مسیحیت کے زور کو توڑ کر اور دنیا میں مسیح پرستی کو مٹا کر کچی تو حید کو قائم کرنا۔بے شک حضرت مسیح ناصری خدا کے ایک برگزیدہ نبی تھے جن کی ہم دل و جان سے عزت کرتے ہیں مگر ان کے بعد ان کی قوم نے یہ خطرناک ظلم ڈھایا کہ حق وصداقت کے رستہ کو چھوڑ کر انہیں خدا کا بیٹا بنا لیا اور اس طرح دنیا میں ایک بھاری شرک کی بنیا درکھ دی۔حالانکہ مسیح کی ساری زندگی اور زندگی کا ہر لمحہ اس بات پر شاہد ناطق ہے کہ وہ خدایا خدا کا بیٹا ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوا اور کمزوری کی حالت میں ہی دنیا