مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 478 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 478

مضامین بشیر جلد چهارم 478 امیر حبیب اللہ خاں نے آپ کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب کو بڑے ظالمانہ طریق پر کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا اور امیر نے خود موقع پر جا کر ان کو آخری دفعہ سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے کہ اس عقیدے سے باز آجائیں مگر وہ ایک پہاڑ کی طرح اپنے ایمان پر قائم رہے اور یہی کہتے ہوئے پتھروں کی بے پناہ بوچھاڑ میں جان دے دی کہ جس صداقت کو میں نے خدا کی طرف سے حق سمجھ کر دیکھا اور پہچانا ہے اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس طرح بہت سے لوگوں کے بعد آنے کے باوجود خدا کی راہ میں آگے نکل گئے۔حضرت مسیح موعود ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ۔پُر خطر ہست این بیابان حیات صد ہزاراں اثر دہائیش در جهات صد ہزاراں فریح در کوئے یار دشت پر خار و بلایش صد ہزار بنگر ایں شوخی ازاں شیخ عجم این بیاباں کرد طی از یک قدم ( تذكرة الشهادتين ) یعنی یہ زندگی کا بیابان جنگل خطروں سے بھرا پڑا ہے جس میں ہزاروں زہریلے سانپ ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں اور آسمانی معشوق کے رستے میں لاکھوں کروڑوں میل کا فاصلہ ہے جس میں بے شمار خاردار جنگلوں اور لاکھوں امتحانوں میں سے گزرنا پڑتا ہے مگر اس عجمی شیخ کی ہوشیاری اور تیز رفتاری دیکھو کہ اس خطر ناک جنگل کو صرف ایک قدم سے طے کر گیا۔پھر ایک چوہدری رستم علی صاحب تھے جو حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی تھے اور بڑے سادہ مزاج بزرگ اور مخلص انسان تھے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے جماعت میں کسی خاص موقع پر چندے کی تحریک کی اور چوہدری رستم علی صاحب کو بھی خط لکھا اسی دن اتفاق سے ان کو ان کی خاص ترقی کے احکام آئے تھے اور وہ سب انسپکٹر پولیس سے انسپکٹر بنادیئے گئے تھے اور ان کی تنخواہ میں اسی 80 روپے ماہوار کا اضافہ ہو گیا تھا۔مسیح محمدی کے اس پروانے نے حضرت مسیح موعود کولکھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ میری یہ ترقی صرف حضور کی دعا اور توجہ کے نتیجہ میں ہوئی ہے کیونکہ ادھر حضور کا مکتوب گرامی پہنچا اور ادھر میری اس ترقی کا آرڈر آ گیا۔اس لئے میں یہ ساری ترقی کی رقم حضور کی خدمت میں بھجواتا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہمیشہ بھجواتا رہوں گا۔