مضامین بشیر (جلد 4) — Page 477
مضامین بشیر جلد چہارم 477 کام کے تعلق میں قادیان کے پتے پر ایک تار دلوائی اور تار لکھنے والے نے یہ الفاظ لکھ دیئے کہ بلا توقف دتی پہنچ جائیں اس وقت حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے روزمرہ کے کام میں مصروف تھے۔اس تار کے ملنے پر آپ فورا وہیں سے اٹھ کر سیدھے بغیر اس کے کہ گھر جائیں یا سفر کے لئے گھر سے کوئی خرچ منگوائیں یا بستر ہی تیار کرائیں یا اور ضروری سامانِ سفر ساتھ لیں قادیان کے اڈا خانہ کی طرف روانہ ہو گئے اور جب کسی نے اس کیفیت کو دیکھ کر کہا حضرت آپ اس طرح بغیر کسی سامان کے لمبے سفر پر جا رہے ہیں! تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ امام نے بلایا ہے کہ بلا توقف آجاؤ اس لئے اب میرا ایک منٹ کے لئے بھی رکھنا جائز نہیں اور میں جس طرح بھی ہوا بھی جا رہا ہوں۔خدا نے بھی آپ کے اس تو کل کو غیر معمولی قبولیت سے نوازا۔چنانچہ رستہ میں ہی غیبی طریق پر سارے انتظامات بلا روک ٹوک ہوتے چلے گئے اور آپ اپنے امام کی خدمت میں بلا توقف حاضر ہو گئے۔یہ وہی حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں جن کی نیکی اور تقویٰ اور علم اور فراست اور محبت اور عقیدت اور قربانی کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک شعر میں فرمایا ہے کہ۔چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے یعنی کیا ہی اچھا ہو کہ امت کا ہر فرد نور دین بن جائے اور یقیناً ایسا ہی ہواگر ہر مسلمان کا دل یقین کے نور سے بھر جائے۔لاریب حضرت مولوی صاحب کے علم اور اخلاص اور تقویٰ اور تو کل اور اطاعت امام کا مقام بہت ہی بلند اور ہر لحاظ سے قابل رشک تھا۔دوسری مثال جیسا کہ میں اپنی ایک سابقہ تقریر میں بھی تفصیل سے بیان کر چکا ہوں حضرت مولوی سید عبداللطیف صاحب شہید کی ہے۔یہ بزرگ مملکت افغانستان کے رہنے والے تھے اور اس علاقہ کے چوٹی کے دینی علماء میں سے سمجھے جاتے تھے اور ساتھ ہی بڑے بااثر رئیس بھی تھے حتی کہ انہوں نے ہی امیر حبیب اللہ خان کی تاج پوشی کی رسم ادا کی تھی۔جب صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ سنا تو تحقیقات کے لئے قادیان آئے اور اپنے نور فراست سے آپ کو دیکھ کر اور آپ کے دعوی کو پہچان کر فوراً قبول کر لیا۔ان کے واپس جانے پر کابل کے علماء نے ان کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا اور واجب القتل قرار دے کر امیر کے پاس ان کے سنگسار کئے جانے کی سفارش کی۔چنانچہ اس فتوی کی بناء پر