مضامین بشیر (جلد 4) — Page 424
مضامین بشیر جلد چهارم 424 ہیں تو ان کو مستقل باغ میں منتقل کر دیتا ہے۔پس اطفال الاحمد یہ دراصل خدام الاحمدیہ کے لئے ایک نرسری کے طور پر ہیں۔اور اسی طرح خدام الاحمدیہ، انصار اللہ کیلئے ایک نرسری کے طور پر ہیں۔یہ نرسری پرورش پانے اور مضبوط ہونے پر لازماً اپنے مستقل باغ کی طرف منتقل ہوگی۔پس خدام الاحمدیہ کی نظر ہر وقت اطفال الاحمدیہ کی طرف رہنی چاہئے اور انصار اللہ کو ہمیشہ خدام الاحمدیہ پر نظر رکھنی چاہئے تا کہ یہ پودے اپنی مقررہ عمر کو پہنچ کر دوسرے باغ کی طرف بہترین صورت میں منتقل ہوں۔ایک اچھا باغ پیدا کرنے کے لئے یہ انتظام از بس ضروری ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دور بین نظر سے تو اس اصول کے ماتحت یہاں تک ہدایت فرمائی ہے کہ ایک بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کی تربیت کا خیال رکھنا شروع کر دو۔چنانچہ بچے کی پیدائش پر اس کے کانوں میں اذان اور اقامت کی آواز پہنچانا اسی حکیمانہ اصول کے ماتحت ہے۔انصار اللہ جماعت احمدیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں انصار اللہ کا نظام دراصل جماعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ہے کیونکہ بالغ افراد کی تعداد کے لحاظ سے غالباً جماعت میں انصار اللہ ہی کی اکثریت ہے اور جماعت کے عہدیدار بھی زیادہ تر انصار اللہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور جماعتی امراء بھی عموماً اسی طبقہ میں سے لئے جاتے ہیں۔اور پھر یہ لوگ لَمَّا بَلَغَ اَشُدہ کے اصول کے ماتحت پختگی والے لوگ ہیں جن کے متعلق امید کی جاتی ہے (وَاللهُ أَعْلَمُ ) کہ ان میں کوئی کچھی یا پکی اینٹ نہیں ہوگی۔پس انصار اللہ پر جماعت کے مجموعی کاموں کی ذمہ داری بہت بھاری ہے اتنی بھاری کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔در حقیقت یہی لوگ خلیفہ وقت اور مرکزی کارکنوں کے بعد جماعتی کاموں کے اصل ذمہ دار ہیں۔پس انہیں اپنی ذمہ داری کو بصورت احسن سمجھنا اور ادا کرنا چاہئے اور ساری جماعت کے لئے پاک نمونہ بنا چاہئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا باقی ماندہ حصہ بھی انصار اللہ ہی میں شامل ہے اور یہ وہ حصہ ہے جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ الا ماشاء اللہ وہ ایسے آسمانی نجوم یعنی ستارے ہیں جن سے جماعت اپنے اندھیرے کے وقتوں میں روشنی اور ہدایت حاصل کر سکتی ہے۔غالبا انصار اللہ نے صحابہ کی جماعت کی فہرست مرتب کرنے اور ان کے حالات مکمل کرنے کا کام شروع کر رکھا ہوگا۔میری نصیحت ہے کہ اس کام کو زیادہ تیزی اور زیادہ توجہ کے ساتھ انجام تک پہنچایا جائے تا کہ اس پاک گروہ کے حالات جلد تر ضبط میں آکر دوسرے حصہ جماعت کے لئے نور اور ہدایت کا موجب ہوں۔یادرکھنا چاہئے کہ گو اس زمانہ میں صحابی کی نرم قسم کی تعریف یہی ہے کہ ہر وہ شخص جس نے احمدی ہونے کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا