مضامین بشیر (جلد 4) — Page 417
مضامین بشیر جلد چهارم 417 كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهَ فِي عَوْنِهِ یعنی جو شخص کسی کام میں اپنے بھائی کی مددکرتا ہے تو خدا اس کی مدد میں لگ جاتا ہے۔پس یہ صرف مفت کا ثواب ہی نہیں بلکہ نصرت الہی کے جذب کرنے کا عمدہ ذریعہ بھی ہے اور پھر اگر سوچا جائے تو یہ ہماری خاموش تبلیغ کا بھی ایک کامیاب ذریعہ ہے کیونکہ جب غیر احمدی اصحاب یہ دیکھتے ہیں کہ حادثات کے موقع پر احمدی نوجوان کسی اجرت وغیرہ کے بغیر ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو طبعا وہ اس بے لوث خدمت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدمت خلق کے مواقع (پر) احمدی یا غیر احمدی، مسلمان یا غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہئے۔یہ سب خدا کے بندے ہیں اور انسان ہونے کے لحاظ سے ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں۔وقف زندگی کی تحریک میں اپنے عزیز نو جوانوں کو وقف زندگی کی تحریک کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں جن نوجوانوں کو خدا توفیق دے انہیں دعا اور استخارہ اور والدین کی اجازت کے بعد دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنی چاہئے۔زندگی وقف کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ خدا کی فوج میں شامل ہو جانا اور اس سے زیادہ برکت والی چیز اور کونسی ہو سکتی ہے کہ انسان خدا کا نوکر بن جائے ؟ خدا کے فضل سے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کوششوں کے نتیجہ میں اس وقت اشترا کی ملکوں کو چھوڑ کر دنیا کے قریباً سارے ملکوں میں جماعت احمدیہ کے تبلیغی مراکز قائم ہو چکے ہیں لیکن لوگوں کی ضرورت کے مقابلہ پر یہ بلیغی مراکز بھی اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے جتنی کہ آٹے میں نمک کو ہوتی ہے۔پس جن نو جوانوں کو خدا توفیق دے وہ اپنے والدین کی اجازت سے دعا اور استخارہ کے بعد اپنی زندگیاں وقف کریں۔سلسلہ کو ملک کے اندر بھی وقف کرنے والوں کی ضرورت ہے۔دینی فائدہ کے علاوہ وقف کا ایک ظاہری فائدہ یہ بھی ہے کہ اس خدمت کے ذریعہ سے کئی غیر خاندانوں کے بچے باہر کے ملکوں میں جا کر سلسلہ میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور ہم حضرت عمرؓ کی طرح جائز طور پر کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے سردار ہیں پس در حقیقت یہ ہم خرما و ہم ثواب والا کام ہے۔اطفال الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ کی نرسری ہیں خدام الاحمدیہ کا ہی ایک حصہ اطفال الاحمدیہ کا نظام ہے یہ وہ چھوٹی عمر کے بچے ہیں جو خدام الاحمدیہ