مضامین بشیر (جلد 4) — Page 410
مضامین بشیر جلد چهارم 410 بے شک بعض اوقات مومنوں پر خدائی مشیت کے ماتحت قبض کی حالت بھی آجاتی ہے جبکہ وقتی طور پر ان کی ترقی رکی ہوئی یا دھیمی پڑی نظر آتی ہے مگر یہ روک مستقل نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ ایسی ہوتی ہے جیسی کہ نہروں کے بنانے والے قابل انجینئر کسی کسی جگہ پر نہروں میں ایک ٹھو کر اور روک کھڑی کر دیتے ہیں تا کہ اس روک کے ساتھ نہر کا پانی ٹکرا کر جب آگے نکلے تو زیادہ تیزی اور زیادہ زور کے ساتھ بہنا شروع ہو جائے۔اسی طرح جب الہی تنظیموں کی ترقی میں کوئی عارضی روک پیدا ہوتی ہے تو اس کے بعد بھی یہی ہوتا ہے اور یہی ہونا چاہئے کہ مومنوں کا قدم زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔گزشتہ کا جائزہ اور آئندہ کا پروگرام خدام کا یہ سال وارا اجتماع بھی زیادہ تر اسی غرض سے ہوتا ہے کہ ایک طرف گزشتہ سال کے حالات کا جائزہ لیا جائے اور اگر کوئی نقص پیدا ہو گیا ہو تو اس کی اصلاح کی جائے اور دوسری طرف آئندہ کا پروگرام ایسے رنگ میں تجویز کیا جائے جو زیادہ سے زیادہ ترقی اور اصلاح کا موجب ہو۔اور خدام کو اپنے ہر اجتماع میں یہی دو بنیادی غرضیں مدنظر رکھنی چاہئیں۔اول گزشتہ کا جائزہ لینا اور دوسرے آئندہ کے متعلق ترقی پذیر پروگرام مرتب کرنا۔اگر پوری چوکسی اور دور بینی کے طریق پر یہ دو پہلو مد نظر رکھے جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خدام الاحمدیہ کا کام سال بسال بلکہ ماہ بماہ بلکہ یوم بہ یوم ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے گا۔جمالی سلسلوں کی رفتار ترقی خدام الاحمدیہ کو یا د رکھنا چاہئے کہ جمالی سلسلہ کی شاخ ہونے کی وجہ سے وہ ایک ایسی الہی جماعت کا حصہ ہیں جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے گزرع اَخْرَجَ شَطْقۂ یعنی وہ ایک بیج کی طرح ہوگی جو زمین سے نکلنے کے بعد پہلے ایک کو نیل بنے گی اور پھر کچھ کمزوری پیتیاں نکالے گی۔اور پھر کچھ نرم نرم شاخیں پیدا کرے گی اور پھر ایک مضبوط تنے پر کھڑی ہو کر چاروں طرف پھیلتی چلی جائے گی۔خدام الاحمدیہ پر سے نکلنے اور پتیاں نکالنے اور شاخیں بنانے کا وقت تو خدا کے فضل سے گزر چکا۔اب اسے اپنے پروگرام میں ایک مضبوط تنا پیدا کرنے اور اپنے پھیلاؤ کو وسیع سے وسیع کرتے چلے جانے کی سکیم کو مد نظر رکھنا چاہئے۔نوجوانی کی عمر انسانی نشو ونما کا بہترین زمانہ ہے گزشتہ سال کی افتتاحی تقریر میں میں نے خدام الاحمدیہ سے کہا تھا کہ وہ اپنی عمر کے ایسے دور میں ہیں