مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 20 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 20

مضامین بشیر جلد چهارم عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - (الاحزاب : 57) 20 بالآخر میں اپنے مضمون کے اس حصہ کے متعلق جو محبت الہی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے صرف یہ بات کہہ کر اسے ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی محبت کا جذ بہ آپ کی ذات تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ آپ کو اس بات کی بھی انتہائی تڑپ تھی کہ یہ عشق کی چنگاری دوسروں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے۔چنانچہ آپ اپنی مشہور و معروف تصنیف ”کشتی نوح میں فرماتے ہیں: وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں، کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 21-22) دوستو! ان الفاظ پر غور کرو اور اس محبت اور اس تڑپ کی گہرائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کرو جو ان الفاظ کی تہہ میں پنہاں ہے۔آپ یقینا اس کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتے مگر جس قد را اندازہ بھی آپ اپنے ظرف کے مطابق کریں گے اس کے نتیجہ میں لازماً آپ کی روحانیت میں علی قدر مراتب غیر معمولی بلندی اور غیر معمولی ترقی اور غیر معمولی روشنی پیدا ہوگی۔عشق رسول محبت الہی کے بعد دوسرے نمبر پر عشق رسول کا سوال آتا ہے۔سواس میدان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام عدیم المثال تھا۔آپ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ : بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم (ازالہ اوہام) یعنی میں خدا کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں۔اگر میرا عشق کسی کی نظر میں کفر ہے تو خدا کی قسم! میں ایک سخت کا فرانسان ہوں۔