مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 388 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 388

مضامین بشیر جلد چهارم 388 بھائی تھے مگر کس طرح سالہا سال کی جدائی کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے غیر معمولی تصرف سے 1930ء میں ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب کو پچھتر سال کی عمر میں ہماری اخوت کے دائرہ میں کھینچ لایا۔خدا نے فرمایا تھا کہ پسر موعود علوم ظاہری اور باطنی سے پر کہا جائے گا اور جماعت کا بچہ بچہ دیکھ چکا ہے کہ رسی تعلیم کے فقدان کے باوجود یعنی بغیر اس کے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے کوئی ظاہری امتحان پاس کیا ہو۔اللہ تعالیٰ نے حضور کے قلم اور حضور کی زبان سے قرآن مجید کی تفسیروں اور جلسہ سالانہ کی تقریروں کے ذریعہ ایسے علوم کے دریا بہائے کہ دنیا انہیں دیکھ کر عش عش کر اٹھی۔پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تو میں اس سے برکت پائیں گی اور آج دیکھ لو کہ حضرت خلیفہ اسیح کی دردمندانہ دعاؤں اور انتھک کوششوں کے نتیجہ میں اشترا کی ملکوں کو چھوڑ کر جن میں ہمارے مبلغوں کو جانیکی اجازت نہیں دنیا کے قریباً ہر ملک میں احمدی مبلغوں کے ذریعہ اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور جن ملکوں میں احمدی مبلغ نہیں پہنچا ان میں بھی ساتھ کے ملکوں کے ذریعہ اثر پہنچ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔پس یقینا حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام پیشنگوئیاں غیر معمولی شان کے ساتھ پوری ہو چکی ہیں اور حق یہ ہے کہ کوئی پیشگوئی بھی ایسی نہیں جس میں سنت اللہ کے مطابق اعتراض کیا جا سکے۔پس لاریب خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی۔اور خدا کی نعمت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔اور اب ہماری دعاؤں کی غرض و غایت کسی مزید پیشگوئی کے پورا ہونے کے انتظار کی وجہ سے نہیں بلکہ برکاتِ خلافت کے لمبا ہونے کے لئے ہے۔وَنَرْجُوا مِنَ اللهِ خَيْراً وَمَا ذَالِكَ عَلَى اللَّهِ عَزِيزٌ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيْمِ ( محرره 21 ستمبر 1962 ء بروز جمعہ )۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل 25 ستمبر 1962ء) برکات خلافت کے لمبا ہونے کے متعلق میرا نوٹ اور اس پر ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا خط چند دن ہوئے روزنامہ الفضل میں میرا ایک نوٹ شائع ہوا تھا جس میں میں نے برکات خلافت کے لمبا ہونے کے متعلق جماعت میں دعا کی تحریک کی تھی اور ضمناً تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ بھی لکھا تھا کہ حضرت خلیفہ