مضامین بشیر (جلد 4) — Page 387
مضامین بشیر جلد چہارم 387 رہی ہے۔اور دوسری طرف جماعت کے بعض دوست حضور کی شفایابی کے لئے خوا ہیں بھی دیکھ رہے ہیں۔خوابوں کی حقیقی تعبیر تو خدا جانتا ہے۔اور تقدیر کا معاملہ بھی خدا کے ہاتھ میں ہے جو اس نے اپنی حکیمانہ مصلحت کے ماتحت پردہ غیب میں رکھا ہوا ہے۔دوست بہر حال دعائیں جاری رکھیں کیونکہ بندے کا کام مانگنا ہے اور یہ کام خدا کا ہے کہ وہ کسی دعا کو ظاہری صورت میں قبول کرے یا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے اس کی برکات کو اخروی زندگی کے لئے ذخیرہ کرلے۔بعض انبیاء تک نے سالہا سال کی لمبی بیماری کاٹی ہے پھر بعض کو اللہ تعالیٰ نے شفاء دے دی اور بعض کا وقت پورا ہو گیا اور خدا نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ہمارے آقا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم (فدان فسی) قریباً دو ہفتے تپ محرقہ میں مبتلا ر ہے اور ان ایام میں صحابہ نے حضور کی صحت کے لئے کس کس رنگ میں اور کیسے درد وسوز کے ساتھ دعائیں کی ہوں گی اس کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے اس بے نظیر عشق کا علم ہو جو صحابہ کے دل میں اپنے پیارے آقا کے لئے تھا۔لیکن چونکہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتَ لَكُمْ دِينَكُمْ کا ارشاد نازل ہو چکا تھا اس لئے خدا کی مشیت پوری ہوئی اور قبل از وقت اختباہ کے باوجود کئی صحابہ کو جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی شامل تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بے وقت نظر آئی اور وہ حضور کے غم میں دیوانوں کی طرح ہو گئے۔پس جہاں میں دوستوں کو حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی صحت کے لئے دعا کی یاد دہانی کرا تا ہوں وہاں میں خدائے رحیم و کریم کا شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ اس نے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی طویل خلافت کو ایسی غیر معمولی نصرتوں اور برکتوں سے نوازا ہے جس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔دراصل اگر غور کیا جائے تو حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ تمام الہامات پورے ہو چکے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئے اور کوئی ایک نشانی بھی ایسی نہیں جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ وہ حضور میں پوری نہیں ہوئی۔اور خدا کا کلام ہر لحاظ سے اور اپنی ہرشان میں پورا ہو چکا ہے۔خدا نے وعدہ فرمایا تھا کہ پسر موعود جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا اور دنیا جانتی ہے کہ حضرت خلیفہ سیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ذریعہ خدا تعال کی کئی جلال شانیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔خدا نے فرمایا تھا کہ وہ دل کا حلیم ہو گا۔اور جماعت نے دیکھ لیا ہے کہ حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ کی جلالی طبیعت کے باوجود اس کثرت کے ساتھ حضور کے ذریعہ حضور کے علم کا اظہار ہوا ہے کہ اس کی شمار نہیں۔خدا نے فرمایا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا اور دوست جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت ہم صرف تین