مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 382 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 382

مضامین بشیر جلد چهارم 382 (اول) کوئی ایسی زینت اختیار نہ کی جائے جو سادہ زندگی کے اصول کے خلاف ہو اور جس میں عورت اپنے جسم اور اپنے لباس کو زیتوں کے ذریعہ اتنا کشش دار کر دے کہ غیر محرم شرفا اور نیک لوگوں کی آنکھیں اس کی طرف اعتراض کی نظر سے اٹھیں۔( دوم ) زینت کے معاملہ میں ایسا انہماک نہ اختیار کیا جائے کہ گویا وہی زندگی کی غرض و غایت ہے بلکہ سادہ زندگی اختیار کی جائے۔( سوم ) جب کوئی پردہ دار عورت کسی مجبوری کی وجہ سے خرید وفروخت کی غرض سے بازار میں جائے یا گھر سے باہر آئے تو لپ سٹک اور چہرہ کے پوڈر وغیرہ سے پر ہیز کیا جائے۔اور باہر آتے ہوئے پردہ کا پورا پورا انتظام رکھا جائے۔(چہارم ) برقعہ یا لباس کے اوپر اوڑھنے کی چادر بالکل سادہ ہو جس کا رنگ نہ تو شوخ اور بھڑکیلا ہو اور نہ اس پر کوئی بیل بوٹے یا نقش و نگار کا کام کیا ہوا ہو۔کیونکہ برقعہ کی غرض زینت کو چھپانا ہے نہ کہ خود برقعہ کو زینت کا ذریعہ بنانا۔( پنجم ) نوجوان لڑکیاں جو سکولوں اور کالجوں میں پڑھتی ہیں ان کے لئے خاص طور پر ضروری ہے کہ ہر قسم کی ناواجب زینت سے بچ کر سادگی اختیار کریں۔بے شک اپنے جسم اور کپڑوں کو صاف رکھیں مگر اپنے چہروں اور لباسوں کو ہرگز مصنوعی طریقہ پر کشش کا ذریعہ نہ بنائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے ربوہ کے بھائی اور بہنیں خصوصاً اور تمام بیرونی شہروں کے بھائی اور بہنیں عموماً میری اس دردمندانہ نصیحت کو غور سے پڑھ کر اس پر دیانتداری کے ساتھ عمل کریں گے تا کہ ایک طرف ان کی زندگی خدا کی نظر میں پسندیدہ زندگی ہو اور دوسری طرف وہ جماعت کو بدنام کرنے والے نہ بنیں۔میں نے اپنے اس مختصر سے مضمون میں اپنے علم کے مطابق دونوں پہلوؤں کو یعنی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو واضح کر دیا ہے۔اور نگران بورڈ نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں جماعت کے مرکزی افسروں اور ضلعوار امراء اور مقامی عہدیداروں کو زور دار ہدایت کی ہے کہ وہ اس بارہ میں جماعت کی نگرانی رکھیں اور اگر کوئی شکایت پیدا ہوتو ابتدائی انتباہ کے بعد مرکز کے ذمہ دار کارکنوں کو رپورٹ کریں۔اس وقت دنیا کی نظر ہم پر ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کا کیا نمونہ پیش کرتے ہیں۔خدا کرے کہ ہماری جماعت کے بوڑھے اور نوجوان اور بچے اور مرد اور عورتیں اور لڑکیاں اسلام اور احمدیت کا ایسا نمونہ دکھا ئیں کہ دنیا اسے دیکھ کر عش عش کر اٹھے کہ یہی اسلام کا سچا نمونہ ہے اور جب دنیا سے ہماری واپسی کا وقت آئے تو