مضامین بشیر (جلد 4) — Page 381
مضامین بشیر جلد چهارم 381 وسلم نے یہ نظارہ دیکھا تو بے چین ہو کر اس کی طرف لپکے اور بڑی محبت سے فرمایا۔”مائی ! ڈرو نہیں ڈرو نہیں۔میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ تمہاری طرح کا ہی ایک انسان ہوں۔جسے عرب کی ایک ماں نے جنا تھا“ پس زندگی میں سادگی اختیار کرنا اسلام اور احمدیت کی خاص تعلیمات میں داخل ہے اور وہی لوگ سچے مومن اور سچے احمدی سمجھے جا سکتے ہیں جو دولت اور ثروت کے ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی گزار ہیں اور اپنے غریب بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ مل کر اس طرح گھل مل کر رہیں کہ گویا وہ ایک خاندان کا حصہ ہیں۔میں اس بات کو مانتا ہوں کہ صحیح رنگ کی زینت جسے بدن اور کپڑوں کی صفائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اسلام میں منع نہیں بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن لوگ نہا کر اور اپنے بدنوں کو صاف کر کے مسجد میں آئیں اور ڈھلے ہوئے صاف کپڑے پہنیں اور اگر وسعت ہو تو خوشبو بھی لگائیں۔اور میں اس بات کو بھی مانتا ہوں کہ عورتوں کو خاص طور پر صفائی اور زینت کی اجازت بلکہ ہدایت دی گئی ہے تا کہ وہ اپنے خاوندوں کے لئے ظاہری لحاظ سے بھی کشش اور راحت کا موجب بن سکیں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی عورت ایک دفعہ ایسی حالت میں رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی کہ اس کی حالت بہت خستہ تھی اور بال بکھرے ہوئے تھے اور کپڑے میلے کچیلے تھے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا۔” بہن تم نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟“۔اس نے جواب دیا۔”یا رسول اللہ! میں کس کے لئے زینت کروں۔میرا خاوند دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات تہجد کی نماز میں کھڑا ہو کر گزار دیتا ہے۔آپ نے فوراً اس کے خاوند کو بلایا اور اس پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا۔" کیا تم اپنی بیوی کا حق چھین کر خدا کو دینا چاہتے ہو؟ سنو کہ خدا ایسے لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔وہ تو یہ چاہتا ہے کہ بندوں کا حق بندوں کو دو اور خدا کا حق خدا کو دو اور بیوی کا حق بیوی کو دو پس اسلام ایک بڑا ہی پیارا اور متوازن مذہب ہے۔جس نے نہ صرف خدا تعالیٰ کے بلکہ خاوند بیوی کے اور دوسرے رشتہ داروں کے اور ہمسایوں کے اور دوستوں کے بلکہ دشمنوں تک کے حقوق مقرر کر رکھے ہی۔اور ان حقوق میں تصرف کرنا خدا تعالیٰ کی خوشی کا موجب نہیں بلکہ اس کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے۔لیکن اسلام نے جہاں واجبی حد تک زینت کی اجازت دی ہے وہاں مناسب حد بندیوں کے ساتھ اسے کنٹرول بھی کیا ہے۔اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ پوری پوری دیانتداری کے ساتھ ان پابندیوں کو ملحوظ رکھیں۔یہ پابندیاں مختصر طور پر چند فقروں میں بیان کی جاسکتی ہیں:۔