مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 376 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 376

مضامین بشیر جلد چهارم 376 3 میٹرک میں تعلیم الاسلام ہائی سکول اور نصرت گرلز ہائی سکول کے نتیجے اس سال ہمارے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور نصرت گرلز ہائی سکول کے میٹرک کے نتیجہ کی جور پورٹ میرے پاس پہنچی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال بوڈ کے 64۔7 کے نتیجہ پر ہمارے لڑکوں کے سکول کا نتیجہ 63۔4 ہے اور لڑکیوں کے سکول کا نتیجہ 69۔66 ہے اور انشاء اللہ دونوں سکولوں میں دو دو تین تین طلباء وظیفہ بھی لے لیں گے۔مگر چونکہ یہ نتیجہ گزشتہ سالوں کی نسبت کم نکلا ہے اس لئے میں نے نظارت تعلیم کی طرف سے رپورٹ آنے پر اس نتیجہ کے متعلق مندرجہ ذیل نصیحت اور انتباہ کا خط بھجوایا ہے تا کہ ہمارے اساتذہ چوکس ہو کر آئندہ زیادہ محنت اور زیادہ توجہ سے کام لیں اور جماعت کی نیک نامی کا موجب بنیں۔میں نے جو نوٹ نظارت تعلیم کو بھجوایا ہے اس کی نقل جماعت کی اطلاع کے لئے روز نامہ الفضل میں شائع کی جارہی ہے۔خدا کرے کہ آئندہ ہمارے نتائج بہتر نکلیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بخدمت مکر می ناظر صاحب تعلیم ربوہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کی طرف سے نیز ہیڈ ماسٹر صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف سے میٹرک کے نتیجہ کی رپورٹ پہنچی۔میں اس اظہار سے رک نہیں سکتا کہ میں اپنے سکولوں کے اس نتیجہ سے خوش نہیں ہوں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کا نتیجہ تو بورڈ کے نتیجہ کی اوسط سے بھی کم ہے جو بہت قابل افسوس بات ہے اور ہماری نیک نامی پر ایک داغ ہے۔البتہ نصرت گرلز ہائی سکول کا نتیجہ بورڈ کے نتیجہ کی اوسط سے کسی قدر زیادہ ہے۔اور غالباً بہت سے قومی سکولوں کے نتیجہ سے بھی بہتر ہے۔مگر یہ بھی ہمارے لئے کم از کم میرے لئے چنداں خوشی کا موجب نہیں۔میں بورڈ کے مقابلہ پر نسبت کو اتنا وزن نہیں دیتا۔بلکہ اپنے جماعتی سکولوں کے نتیجہ کواپنی ذات میں قطع نظر بورڈ کی اوسط کے اعلیٰ پیمانہ پر دیکھنا چاہتا ہوں۔” کا نا راجہ ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ دو خوبصورت روشن تیز نظر والی آنکھیں رکھنا اصل خوبی کی بات ہے۔پس آپ بھی اپنے سکولوں کے نتیجہ کو بورڈ کے نتیجہ کی اوسط سے علیحدہ ہو کر دیکھیں تو پھر اگر آپ حساس دل رکھتے ہیں تو پھر آپ کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔درحقیقت ہمارا سکول ہر جہت سے ایک مثالی سکول ہونا چاہئے جو تیزی کے ساتھ قدم بڑھا تا ہوا ترقی کے منازل طے کرے۔نہ کہ رینگتا ہوا کچھوے کی چال چلے۔میں جانتا ہوں کہ ہمارے جماعتی سکولوں میں بعض قدرتی روکیں ہیں جو ایک حد تک ترقی کے راستہ