مضامین بشیر (جلد 4) — Page 375
مضامین بشیر جلد چهارم 375 امیدوار رہتا ہے اور میرے دامن کو نہیں چھوڑتا اس لئے دیر سے قبول ہونے والی دعاؤں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اکثر صورتوں میں موجب رحمت و برکت قرار دیا ہے۔بعض بزرگوں نے اپنے بعض مقاصد کے لئے ہیں نہیں تھیں تمہیں سال دعائیں کی ہیں اور نہ تھکے ، اور نہ مایوس ہوئے اور آخر اپنے گوہر مقصود کو پا لیا۔حضرت ایوب علیہ السلام سات سال ( بلکہ بعض روایات کے مطابق سترہ سال ) خطر ناک بیماریوں میں مبتلا ر ہے مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔علاوہ ازیں اگر کوئی دعا قبول نہ ہو ( کیونکہ خدا تعالیٰ بہر حال آقا اور مالک ہے اور ہم سب اس کے عاجز بندے اور مملوک ہیں ) تو اس صورت میں بھی بہر حال سچے مومنوں کی دعا ضائع نہیں جاتی بلکہ وہ عبادت کا رنگ اختیار کر کے اجر عظیم کا موجب بنتی ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ دعاؤں میں ہرگز ست نہ ہوں بلکہ صابر بندوں کی طرح خدا کے دامن سے لیٹے رہیں اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی اڑتالیس سالہ خلافت کے عظیم الشان کارناموں کو یاد کر کے خدا تعالیٰ کی رحمت کے طالب ہوں اور اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کو اکناف عالم میں دن رات بلند کرنے میں لگے رہیں حتی کہ وہ وقت آ جائے کہ۔پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد دنیا نے کس راستباز کو اس کے وقت میں شناخت کیا ؟ قرآن تو یہی کہتا ہے کہ ہر صادق انسان کو نسی اور انکار کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اپنے وقت پر وہ دن بھی انشاء اللہ ضرور آئے گا جو مسیح محمدی نے فرمایا ہے کہ۔امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم دنیا کی تاریخ جب اسلام کے دور ثانی کے نقوش کو نمایاں کرے گی تو انشاء اللہ ان نقوش میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی کی تصویر شاندار ہو کر ابھرے گی وَ ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ - محررہ 2 جون 1962 ء ) روزنامه الفضل 5 جون 1962ء)