مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 364

مضامین بشیر جلد چهارم 364 یہ معاملہ اصول کی حد تک محدو درہتا۔باوجود اس کے میری کوشش انشاء اللہ سابق کی طرح یہی ہوگی کہ حتی الوسع سارے فیصلے باہم مفاہمت کے طریق پر طے پائیں۔مشاورت کے دوران میں چند منٹ کے لئے عزیز ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے حضرت (خلیفہ المسیح) کی صحت اور علاج کے متعلق مختصر طور پر بیان کیا جس پر بعض دوستوں میں از خود صدقہ کی تحریک پیدا ہو گئی اور اعلان کیا گیا کہ جو دوست اس مد میں مزید صدقہ بھجوانا چاہیں۔وہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے نام بھجوا دیں اور پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ہدایت دی گئی کہ غریبوں اور مسکینوں اور یتیموں کے علاوہ کچھ رقم قرآنی تعلیم کے ماتحت اسیروں پر بھی خرچ کی جائے حضور کے علاج کے تعلق میں بعض نمائندگان کی طرف سے ہومیو پیتھک طریق علاج کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔بالآخر یہ عاجز دوستوں سے پھر دوبارہ یہ تحریک کرتا ہے کہ وہ آجکل اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے اور جماعت کے بیرونی مبلغوں اور اندرونی مربیوں کی کامیابی کے لئے اور حضرت صاحب کی صحت کے لئے خاص طور پر درد و سوز کے ساتھ دعائیں کرتے رہیں اور اپنی دعاؤں کا کچھ حصہ اس خاکسار کو بھی دیں کیونکہ میں اپنی صحت کی کمزوری کی وجہ سے محسوس کرتا ہوں کہ میں آجکل اس رنگ میں خدمت نہیں کر سکتا جس کی مجھے خواہش ہے۔( محررہ 4 اپریل 1962 ء) (روزنامہ الفضل ربوہ 7 اپریل 1962ء) مشرقی پاکستان ( حال بنگلہ دیش ) کا مجوزہ وفد اس سال کی مجلس مشاورت میں فیصلہ ہوا تھا کہ چونکہ مشرقی پاکستان کی جماعتیں دور کے علاقہ کی جماعتیں ہونے کی وجہ سے اس بات کی زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے ساتھ مرکزی کارکن زیادہ سے زیادہ رابطہ رکھیں اور سال میں کم از کم دو وفد مشرقی پاکستان بھجوا کر وہاں کے حالات کا جائزہ لیتے رہیں (اور دراصل یہ فیصلہ حضرت (خلیفہ اسح) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایک پرانی ہدایت پر مبنی تھا اس لئے صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے اس سال ماہ رواں کے وسط میں مشرقی پاکستان میں دو ناظروں کے بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔یعنی چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر اصلاح وارشاد اور میاں عبدالحق صاحب رامہ ناظر صاحب بیت