مضامین بشیر (جلد 4) — Page 363
مضامین بشیر جلد چهارم 363 کافی دلچسپ رہی البتہ تحریک جدید کا بجٹ زیادہ بحث کے بغیر اتفاق رائے سے پاس ہو گیا۔مجھے خوشی ہے کہ اس سال مشرقی پاکستان کے نمائندے زیادہ خوش اور زیادہ تسلی یافتہ ہو کر واپس گئے۔کیونکہ ایک تو ان کے ایک معزز رکن کو ایک سب کمیٹی میں صدارت کا موقع میسر آنے کی وجہ سے اپنے صوبے کے خیالات اور ضروریات کے اظہار کا اچھا موقع مل گیا تھا۔دوسرے مشرقی پاکستان کی اس خواہش کو کافی حد تک پورا کر دیا گیا کہ جامعہ احمد یہ ربوہ کے طلباء میں ان کے صوبے کو زیادہ حصہ ملنا چاہئے۔علاوہ ازیں مشاورت میں اس فیصلہ پر زور دیا گیا کہ سال میں دو دفعہ مرکز کے کم از کم دو ممتاز اراکین کی طرف سے مشرقی پاکستان کا دورہ ہوا کرے۔تا کہ دونوں صوبوں میں زیادہ سے زیادہ رابطہ اور مفاہمت پیدا ہو۔اس مشاورت میں رشتہ ناطہ کے محکمہ کو بھی زیادہ مضبوط اور زیادہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ اس معاملہ میں دوستوں کی مشکلات دور ہوں اور انہیں مرکز کی طرف سے زیادہ سے زیادہ مشورہ اور امداد میسر آئے۔اس مشاورت میں جامعہ احمد یہ ربوہ کے لئے زیادہ سے زیادہ واقفین حاصل کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور اس کے متعلق زور دار تحریک کی گئی۔اور یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ اب جماعت میں اس کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ ہے اور انشاء اللہ مزید توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔مشاورت کے دوران میں لاہور کے ایک مخلص دوست کی طرف سے ربوہ میں دار الیتامی قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی اور انہوں نے اس کام کے لئے معقول ذاتی امداد کی پیشکش بھی کی۔چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ کی زیر نگرانی جہاں تک ممکن ہو جلد ایک دار الیتامی کھول دیا جائے اور اس کے لئے دوستوں میں تحریک کی جائے۔ربوہ میں پانی کی سپلائی کا مسئلہ بھی نمایاں طور پر مشاورت کی خاص دلچسپی اور توجہ کا جاذب رہا اور اس بات کا ز بر دست احساس پایا گیا کہ صحت کی درستی اور شجر کاری کی توسیع کے لئے اس معاملہ کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہئے اور محکمہ متعلقہ کا فرض ہے کہ وہ ربوہ کی ٹاؤن کمیٹی کے ذریعہ اس کی بار بار تحریک کرتا رہے۔اصلاح وارشاد کے کام کی توسیع کے لئے موجودہ بجٹ کے علاوہ پچیس ہزار روپیہ کے اضافہ کی سفارش کی گئی تا کہ کام زیادہ منظم اور زیادہ وسیع طور پر سر انجام دیا جا سکے۔نگران بورڈ کی تجویز کے متعلق مشاورت میں جو فیصلہ ہوا اس پر یہ خاکسار خوش نہیں کیونکہ اس میں شخصیت کا سوال پیدا ہو گیا تھا۔ویسے اس سوال پر کافی بحث ہوئی اور کئی امکانی صورتوں پر غور ہوتا رہا اور کاش