مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 356 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 356

مضامین بشیر جلد چهارم 356 میں سے بعض لوگ حساب کتاب کے بغیر بخشے جائیں گے۔کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عاجز کو حشر کے میدان میں خدا کے سامنے اپنے حساب کتاب کے لئے کھڑے ہونے کی بالکل طاقت نہیں۔وَ يَا حَيُّ وَ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ وَارْجُوا مِنْكَ خَيْراً يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - 12 محرره 16 فروری 1962ء) روزنامه الفضل ربوه 22 فروری 1962ء) حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مرحوم حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مرحوم کی خبر روز نامہ الفضل میں بھجواتے ہوئے آپ کے اخلاق و شمائل یوں بیان فرمائے۔حضرت سیٹھ صاحب مرحوم کا نام نامی جماعت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔انہوں نے غالباً خلافت ثانیہ کے ابتداء میں اسمعیلیہ فرقہ سے نکل کر احمدیت کو قبول کیا تھا اور پھر ایمان واخلاص میں ایسی جلد جلد ترقی کی اور قربانی اور خدمت دین کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا کہ بہت سے پہلے آنے والے لوگوں سے آگے نکل گئے۔یہی وہ مبارک طبقہ ہے جسے قرآن مجید نے سابقون کے اعزازی نام سے یا د کیا ہے یعنی وہ بعد میں آتا ہے مگر دین کے میدان میں اپنی تیز رفتاری سے پہلوں سے آگے نکل جاتا ہے۔حضرت سیٹھ صاحب مرحوم نے غیر معمولی مالی قربانی کے علاوہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں اتنا وسیع لٹریچر شائع کیا کہ ان کے تبلیغی ولولہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔گویا ایک مقدس جنون تھا جو انہیں ہر روز آگے سے آگے بڑھاتا چلا جاتا تھا۔اور ان کا یہ دینی جذ بہ آخر عمر تک ( وہ غالباً اسی 80 سال سے اوپر عمر پا کر فوت ہوئے) یکساں قائم رہا بلکہ ترقی کرتا گیا اور ذاتی نیکی اور عبادت میں بھی ان کا مقام حقیقتاً مثالی تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت سیٹھ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور بہترین نعماء سے نوازے اور ان کی اولاد کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو اور جماعت میں بھی ان کے مقدس ورثہ کو ہمیشہ جاری اور ساری رکھے مِينَ يَا رَبَّ الْعَالَمِینَ۔وہ یقیناً اس طبقہ میں سے تھے جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَّنْتَظِرُ والے طبقہ کا خدا حافظ ہے۔