مضامین بشیر (جلد 4) — Page 346
مضامین بشیر جلد چهارم 346 ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔میں اپنی گزشتہ سال کی تقریر میں بیان کر چکا ہوں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہوئی تو اس وقت حضور کا گھر روپے پیسے سے بالکل خالی تھا اور حضوڑ اپنا آخری روپیہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے ذریعہ اُس گاڑی بان کو دے چکے تھے جس کی گاڑی میں حضور وفات سے قبل شام کے وقت سیر کے لئے تشریف لے گئے تھے (در منثور روایت نمبر 29 )۔اس کے بعد اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہو گئی اور حضور کا یہ الہام پورا ہوا کہ الرَّحِیلُ ثُمَّ الرَّحِيل۔یعنی اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔کوچ کا وقت آگیا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام بھی ہوا کہ ڈرومت مومنو“۔یعنی اے احمد یو! ہمارے مسیح کی وفات سے جماعت کو طبعا سخت دھکا پہنچے گامگر تم ڈرنا نہیں اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا پھر انشاء اللہ سب خیر ہے۔اس کے بعد جب 26 مئی 1908ء کو صبح دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہوئی تو جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس وقت ہمارا گھر دنیوی مال وزر کے لحاظ سے بالکل خالی تھا۔ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اللہ تعالے کی روایت ہے ( اور یہ بات مجھے خود بھی مجمل طور پر یاد ہے ) کہ ہماری اماں جانرضی اللہ عنہ نے اس وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں ان نہ بھولنے والے الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ۔بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا“ ( روایات نواب مبار که بیگم صاحبه ) یہ کوئی معمولی رسمی تسلی نہیں تھی جو انتہائی پریشانی کے وقت میں غم رسیدہ بچوں کو ان کی والدہ کی طرف سے دی گئی بلکہ یہ ایک خدائی آواز اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شاندار الہام کی گونج تھی کہ الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ؟ اور پھر اس وقت سے لے کر آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں نے ہمارا اس طرح ساتھ دیا ہے اور اللہ کا فضل اس طرح ہمارے شامل حال رہا ہے کہ اس کے متعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ۔اگر ہر جائے سخن بال ہو ور تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر