مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 345 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 345

مضامین بشیر جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی تھیں اور وہ شرائط یہ ہیں۔(اول) سالہا سال کی مایوسی کے بعد بچہ پیدا ہوا۔345 ( دوم ) جیسا کہ دعا کے نتیجہ میں ظاہر کیا گیا تھا یہ بچہ بڑی بیوی کے بطن سے پیدا ہوا حالانکہ دو چھوٹی نسبتاً جوان بیویاں گھر میں زندہ موجود تھیں۔( سوم ) یہ بچہ خدا کی طرف سے اچھی شکل وصورت لے کر پیدا ہوا حالانکہ والد کی شکل معمولی رسمی سی تھی۔(چہارم ) پھر یہ بچہ ایسا صاحب اقبال نکلا کہ ایک معمولی دیہاتی پٹواری کے گھر جنم لے کر ایگزیکٹو انجینئر کے معزز عہدہ تک پہنچ گیا اور دینی لحاظ سے بھی بہت مخلص نکلا۔ان چار شرائط کا بیک وقت پورا ہونا یقیناً خدا کی قدرت کا ایک بہت نادر نمونہ ہے۔پھر اس دعا کی یہ روحانی برکت بھی ظاہر ہوئی کہ نہ صرف منشی عطا محمد صاحب کو اس کے ذریعہ تو بہ اور ہدایت نصیب ہوئی بلکہ ان کے گاؤں کے بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اس نشان کے ذریعہ ہدایت کا رستہ کھول دیا۔وَ ذَلِكَ فَضُلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمِ - (سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 239 تا 241) حق یہ ہے کہ احمدیت کی تاریخ دعاؤں کی قبولیت کے نشانوں سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ نیکی اور تقویٰ اختیار کر کے اس قسم کی قدرت نمائیوں کے لئے اپنے اندر اہلیت اور صلاحیت پیدا کریں۔اسلام کا خدا زندہ اور قادر مطلق خدا ہے۔وہ کسی زمانہ میں بھی اپنے نیک بندوں کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹا۔مگر بعض لوگ خود ہی اپنی مستیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اس کی رحمت کے سایہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔کاش جماعت احمد یہ قیامت تک اس خدائی نعمت سے محروم نہ ہو اور اس کے اندر ہمیشہ ایسے صالح اور پاکبازلوگ پیدا ہوتے رہیں جو دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ جماعت میں روحانیت کو زندہ اور مذاہب کی کشمکش میں اسلام کو غالب رکھیں۔اے خدا تو ایسا ہی کر ! 20 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان تو بے شمار ہیں جن کے ذکر سے آپ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور ہزاروں لاکھوں لوگ ان کے گواہ ہیں مگر میں اس جگہ صرف ایک مزید واقعہ کے