مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 340 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 340

مضامین بشیر جلد چهارم 340 بیعت قبول کرنے سے انکار فرما دیا کرتے تھے اور نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ جلدی نہ کرو اور اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔پھر ان میں سے سعید الفطرت لوگ تو کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ آکر بیعت کر لیتے تھے مگر بعض لوگ مخالفانہ اثر کے ماتحت رک جاتے تھے۔اس جگہ ایک جملہ معترضہ کے طور پر میں اپنے دوستوں سے یہ معذرت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے گزشتہ چند روایتیں ہائی بلڈ پریشر کی حالت میں لکھی ہیں جس کے علاوہ میرے سینہ میں اور دائیں بازو میں کافی درد بھی لاحق رہا ہے۔اس لئے میں ان روایتوں کے بیان کرنے میں پوری توجہ سے کام نہیں لے سکا اور سکون اور یکسوئی کی حالت میسر نہیں آئی اور چونکہ یہ عوارض کم و بیش اب تک چل رہے ہیں اس لئے اب میں اپنا بقیہ نیہ مضمون بڑے اختصار کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کروں گا۔دراصل میری غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر خیر کے ذریعہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنا اور دوسری طرف غیر از جماعت اصحاب کو یہ بتانا ہے کہ خدا کے فضل سے سلسلہ احمدیہ کا مقدس بانی نہ صرف اپنے اعلیٰ ترین اخلاق کا حامل تھا بلکہ روحانی لحاظ سے بھی ایسے بلند مقام پر فائز تھا کہ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد اس کی نظیر نہیں ملتی۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اس غرض کے لئے وہ چند روایتیں کافی ہیں جو میں نے اس جگہ بیان کی ہیں۔اس لئے میں اب صرف دو تین اور باتیں بیان کر کے اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔اگر در خانه گس است حرفی بس است 18۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت اور حضور کی روحانی توجہ کے نشانات بے شمار ہیں اور حضور کے زمانہ میں قریباً ہر احمدی نے ایسے غیر معمولی نصرتوں کے نشانات دیکھے اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت کے ایمان افروز نظارے مشاہدہ کئے ہیں۔چنانچہ میں اس جگہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی ایک اور دلچسپ روایت بیان کرتا ہوں جس میں نہ صرف دعا کی قبولیت کا خاص منظر نظر آتا ہے بلکہ شفاعت کے مسئلہ پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے۔یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے اخباروں میں بھی مذکور ہو چکا ہے۔مگر میں اس جگہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی روایت بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔