مضامین بشیر (جلد 4) — Page 317
مضامین بشیر جلد چهارم بکار دیں نه ترسم از جہانے دارم رنگ ایمان 317 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 649) یعنی میں دین کے معاملے میں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کیونکہ میں خدا کے فضل سے اپنے آقا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ رکھتا ہوں۔8۔اس موقع پر ضمناً نہایت مختصر طور پر اُس سراسر غلط اور بے بنیاد الزام کے متعلق بھی کچھ کہنا غیر مناسب نہ ہوگا جو کئی نا واقف لوگ نادانستہ اور کئی مخالف لوگ دیدہ و دانستہ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ پر انگریزوں کی مزعومہ خوشامد کے متعلق لگایا کرتے ہیں اور اس پس منظر کو قطعی طور پر بھول جاتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود نے پاک وصاف نیت سے اپنے زمانہ کی انگریز حکومت کی تعریف فرمائی ہے۔یہ پس منظر مختصر طور پر دو خاص پہلوؤں سے تعلق رکھتا ہے جو ہر انصاف پسند محقق کو ہمیشہ ملحوظ رہنے چاہئیں۔اوّل یہ کہ پنجاب میں بلکہ ہندوستان بھر میں انگریزوں کی حکومت سے پہلے کافی طوائف الملو کی کا زمانہ گزرا ہے اور خصوصیت سے پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نسبتا مستحکم زمانہ کو چھوڑ کر بڑی دھاندلی رہی ہے جس میں دیہاتی علاقوں میں مسلمانوں کو نماز کے لئے اذان تک دینا قریباً قریباً ناممکن تھا اور کئی مسجدیں ،سکھ گوردواروں میں تبدیل کر لی گئی تھیں حتی کہ خود قادیان میں اس وقت بھی دو قدیم مسجد میں گوردوارہ کی شکل میں موجود ہیں۔اور عام بدامنی اور مذہبی رواداری کے فقدان کا تو کہنا ہی کیا ہے۔یہ سب پُر آشوب نظارے حضرت مسیح موعود کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ایسے روح فرسا منظر کے بعد امن کا سانس ہمیشہ خاص بلکہ خاص الخاص شکر گزاری کا موجب ہوا کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود سے زیادہ شکر گزار انسان کون ہوسکتا ہے؟ دوسرے یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھے بلکہ آپ حضرت مسیح ناصری کی طرح خالصتا جمالی رنگ میں مذہبی اور روحانی اصلاح کی غرض سے مبعوث کئے گئے تھے اور طبعاً آپ کی آنکھ ہر بات کو روحانی اور اخلاقی اصلاح کی نظر سے ہی دیکھتی تھی۔اور چونکہ مذہبی آزادی دینے کے معاملہ میں حکومت انگریزی کی پالیسی بلاریب بہت قابل تعریف تھی اور یورپ کی کوئی دوسری حکومت اس معاملہ میں انگریزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔حتی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ جیسا آزاد ملک اب تک بھی مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کے معاملہ میں انگریز قوم کی برابری نہیں کر سکتا۔اس لئے طبعاً ایک روحانی اور مذہبی مصلح