مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 313 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 313

مضامین بشیر جلد چهارم 5 313 دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں بلا امتیاز قوم وملت بنی نوع انسان کی ہمدردی اور دلداری کا جذ بہ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ وہ ایک پہاڑی چشمہ کی طرح جو اوپر سے نیچے کو بہتا ہے ہمیشہ اپنے طبعی بہاؤ میں زور کے ساتھ بہتا چلا جاتا تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مرحوم جو حضرت مسیح موعود کے ایک بہت پرانے اور مقرب صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ منی پور آسام کے دور دراز علاقہ سے دو ( غیر احمدی) مہمان حضرت مسیح موعود کا نام سن کر حضور کو ملنے کے لئے قادیان آئے اور مہمان خانہ کے پاس پہنچ کر لنگر خانہ کے خادموں کو اپنا سامان اتارنے اور چار پائی بچھانے کو کہا۔لیکن ان خدام کو اس طرف فوری توجہ نہ ہوئی اور وہ ان مہمانوں کو یہ کہہ کر دوسری طرف چلے گئے کہ آپ یکہ سے سامان اتاریں چار پائی بھی آجائے گی۔ان تھکے ماندے مہمانوں کو یہ جواب نا گوار گزرا اور وہ رنجیدہ ہو کر اسی وقت بٹالہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔مگر جب حضور کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نہایت جلدی ، ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل ہو گیا ان کے پیچھے بٹالہ کے رستہ پر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے۔چند خدام بھی ساتھ ہو گئے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں بھی ساتھ ہولیا۔حضور اس وقت اتنی تیزی کے ساتھ ان کے پیچھے گئے کہ قادیان سے دو اڑھائی میل پر نہر کے پل کے پاس انہیں جالیا اور بڑی محبت اور معذرت کے ساتھ اصرار کیا کہ واپس چلیں اور فرمایا کہ آپ کے واپس چلے آنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔آپ یکہ پر سوار ہو جائیں میں آپ کے ساتھ پیدل چلوں گا۔مگر وہ احترام اور شرمندگی کی وجہ سے سوار نہ ہوئے اور حضور انہیں اپنے ساتھ لے کر قادیان واپس آگئے اور مہمان خانہ میں پہنچ کران کا سامان اتارنے کے لئے حضور نے خود اپنا ہاتھ یکہ کی طرف بڑھایا مگر خدام نے آگے بڑھ کر سامان اتارلیا۔اس کے بعد حضور ان کے پاس بیٹھ کر محبت اور دلداری کی گفتگو فرماتے رہے اور کھانے وغیرہ کے متعلق بھی پوچھا کہ آپ کیا کھانا پسند کرتے ہیں اور کسی خاص کھانے کی عادت تو نہیں ؟ اور جب تک کھانا نہ آ گیا حضور ان کے پاس بیٹھے ہوئے بڑی شفقت کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔دوسرے دن جب یہ مہمان واپس روانہ ہونے لگے تو حضور نے دودھ کے دو گلاس منگوا کر ان کے سامنے بڑی محبت کے ساتھ پیش کئے اور پھر دواڑھائی میل پیدل چل کر بٹالہ کے رستہ والی نہر تک چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ گئے اور اپنے سامنے یکہ پر سوار کرا کر واپس تشریف لائے۔(اصحاب احمد جلد 4 روایت نمبر 44)