مضامین بشیر (جلد 4) — Page 290
مضامین بشیر جلد چهارم 290 چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی مکاشفات اسی بین بین والی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ایک جگہ فرماتے ہیں: ”اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس خدا کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مرادر کھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے تذکرہ الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66-67) سو بھائیو اور بہنو! ہمیشہ اس مقصد کو اپنے سامنے رکھو اور دین کے رستہ میں وقت اور جان اور مال کی ایسی قربانیاں دکھاؤ جو صحابہ کی یاد کو زندہ کر دیں اور اپنے ایمان کے زور اور عمل کی قوت سے دنیا پر ثابت کر دو کہ تم اسلام کے نیچے خادم ہو اور خدا کی نصرت تمہارے ساتھ ہے۔یہ زمانہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کا احیاء اور اسلام کا عالمگیر غلبہ مقدر ہو چکا ہے۔مگر خدا کی ہر تقدیر ایک حد تک انسانوں کی تدبیر کے ساتھ معلق ہوتی ہے۔اس تد بیر کو مہیا کرنا آپ لوگوں کا کام ہے۔پس نہ صرف اپنے قدموں کو تیز کرو بلکہ اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کرو تا کہ جب آپ کی زندگی کا دور ختم ہو تو اگلی نسل آپ کا بوجھ اٹھانے کے لئے پوری طرح تیار ہو اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دو کیونکہ کہنے والا با نگِ بلند کہہ چکا ہے کہ: قضاء آسمان است این بہر حالت شود پیدا (محررہ 9 دسمبر 1961ء) روزنامه الفضل ربوه مورخہ 14 دسمبر 1961ء)